اقوام متحدہ کا حزب اللہ سے شام میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ

شیعہ ملیشیا پر شامی صدر کی حمایت میں ہزاروں جنگجو لڑائی کے لیے بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے پڑوسی ملک شام میں جاری تنازعے میں ہر طرح کی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں متعین لبنانی سفیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تشدد سے متاثرہ شامیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھے گا۔

سلامتی کونسل نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں لبنان کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی شامی تنازعے سے لاتعلقی کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں۔اس ضمن میں وہ صدر مشعل سلیمان کی سربراہی میں متحد رہیں اور اگر انھوں نے شامی بحران میں کسی قسم کی مداخلت کی ہے تو اس سے وہ پیچھے ہٹ جائیں۔

سلامتی کونسل میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بیان میں روس کے اعتراض کی وجہ سے حزب اللہ کا واضح طور پر نام نہیں لیا گیا ہے لیکن اس کی زبان سے مترشح ہے کہ سلامتی کونسل کے بیان کا ہدف حزب اللہ ہی ہے۔

پندرہ رکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل نے شام میں گذشتہ سوا دو سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں چھے لاکھ سے زیادہ شامیوں کی لبنان کی جانب نقل مکانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی اور مغربی تخمینوں کے مطابق حزب اللہ نے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں سے لڑائی کے لیے اپنے ہزاروں جنگجوؤں کو بھیجا ہے۔اسرائیل نے اس کے پیش نظر شام کے ساتھ واقع اپنے سرحدی علاقے میں فوج کی نفری میں اضافہ شروع کردیا ہے کیونکہ صہیونی عہدے داروں کا خیال ہے کہ حزب اللہ ملیشیا کسی بھی وقت لڑائی کا رخ ان کی جانب پھیر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں ،چالیس لاکھ سے زیادہ اندرون ملک دربدر ہیں اور بیس لاکھ سے زیادہ اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سلامتی کونسل شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میزبان ممالک کو غیر معمولی سطح پر امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیتی ہے۔خاص طور پر لبنان کو مالی امداد مہیا کی جانی چاہیے کیونکہ اس پر غیرمعمولی مالی بوجھ پڑا ہے۔

اقوام متحدہ میں لبنانی سفیر نواف سلام نے صحافیوں کو بتایا ان کے ملک میں آنے والے شامی مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے کیونکہ بے سروسامانی کے عالم میں آنے والے تمام شامی مہاجرین کی اقوام متحدہ کے تحت اداروں کے ہاں رجسٹریشن نہیں کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''لبنان اپنی سرحدیں بند نہیں کرے گا اور نہ کسی مہاجر کو واپس بھیجے گا بلکہ وہ تمام شامی مہاجرین کو امداد مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا مگر یہ واضح رہے کہ لبنان مہاجرین کے بوجھ سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔اس کو اس ضمن میں بین الاقوامی مدد و حمایت کی ضرورت ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں