خصوصی امریکی ڈرون کی طیارہ بردار جہاز پر کامیاب لینڈنگ

ایکس- 48 بی 1.4 بلین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امريکی بحريہ نے ایکس- 48 بی طرز کا بغير پائلٹ جہاز ايک ايئر کرافٹ کيريئر پر کاميابی کے ساتھ اتار ليا ہے۔ يہ پہلا موقع ہے کہ جب ڈرون طيارے کو پانی ميں حرکت کرتے ہوئے ايک طيارہ بردار بحری جہاز پر اتارا گيا ہے۔

ایکس- 48 بی پہلا تجرباتی ڈرون طيارہ ہے، جسے کسی ايئر کرافٹ کيريئر سے اڑان بھرنے اور پھر اس پر اترنے کرنے کے ليے ڈيزائن کيا گيا ہے۔ اس تجرباتی ڈرون کی گزشتہ روز کامياب لينڈنگ کے بعد امريکی بحريہ اپنے اس منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے، جس ميں بغير پائلٹ والے ايسے طياروں کی پيداوار شامل ہے۔

يوں روايتی لڑاکا طياروں کے ساتھ ساتھ يہ ڈرون طيارے چوبيس گھنٹے نگرانی سميت لڑاکا مشنز کے ليے بھی استعمال ميں لائے جا سکتے ہيں۔ مزيد يہ کہ اس ٹيکنالوجی کی بدولت امريکا کو اپنے ڈرون طياروں کی پرواز کے ليے کسی بھی ملک کے ہوائی اڈوں کی ضرورت نہيں پڑے گی بلکہ وہ اپنے ايئر کرافٹ کيريئرز کے ذريعے مطلوبہ کام انجام دے سکيں گے۔

یاد رہے کہ کی تجرباتی پرواز کا آغاز گزشتہ روز ميری لينڈ کے نيول ايئر اسٹيشن پيٹوکسنٹ ريور سے ہوا اور اسے ورجينيا کی ساحلی پٹی کے قريب ’يو ايس ايس جارج ايچ ڈبليو بش‘ نامی ايئر کرافٹ کيريئر پر اتارا گيا۔

اس منفرد ڈرون کی ايک پَر سے دوسرے پَر تک کی چوڑائی قريب 19 ميٹر ہے جب کہ اس کا وزن ساڑھے چھ ہزار کلوگرام کے قريب ہے۔ اسے قريب 1.4 بلين ڈالر کی لاگت سے نارتھ روپ گرومن نامی کمپنی نے تيار کيا ہے۔ يہ ڈرون چاليس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کے علاوہ ہتھیاروں سے ليس ہونے کی صلاحيت بھی رکھتا ہے۔ روايتی ڈرون طيارے پريڈيٹر کو ريموٹ کنٹرول کے ذريعے اڑايا جاتا ہے جبکہ اس نئے جہاز ميں يہ صلاحيت ہے کہ اسے کمپيوٹر پروگرام کے ذريعے اڑايا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن انتظاميہ کو پاکستان، افغانستان، يمن اور عراق جيسے ممالک ميں ڈرون حملوں کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظيموں کی جانب سے تنقيد کا سامنا ہے۔ کئی امريکی اور بين الاقوامی ناقدين کا موقف ہے کہ ڈرون حملے متعدد سويلين ہلاکتوں کے ذمہ دار ہيں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں