"تہران قاہرہ کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے"

فوجی بغاوت کی مخالفت، مصرکی عبوری حکومت ایران کے خلاف سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں فوج کی سرپرستی میں قائم نگراں حکومت کو ملک میں فوجی بغاوت کے خلاف کسی ملک کی تنقید ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہی ہے۔ نئی مصری حکومت نے ایران کی جانب سے سابق معزول صدر محمد مرسی کی حمایت پر تہران کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہا کیا ہے اورکہا ہے کہ ایرانی حکام کے تازہ بیانات مصر کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہیں جنہیں کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

مصرکی نگراں وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعاطی نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی عہدیداروں کےبیانات ہمارے ملک میں جاری جمہوری پیش رفت کے بارے میں لاعلمی کا مظہر ہیں اور قاہرہ کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقجی نے مصرمیں سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کےخلاف فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی تھی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی" مہر" سے گفتگو میں مسٹرعراقجی کا کہنا تھا کہ "مصرکی مسلح افواج کو اپنے ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے تھا۔ فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جو قدم اٹھایا ہے، وہ ناقابل قبول اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر میں جاری فسادات اور بے گناہ شہریوں پر گولیاں چلانے کی بھی مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز قاہرہ میں ری پبلیکن گارڈز کے ہیڈ کواٹر کے باہر معزول صدرمحمد مرسی کی حمایت میں جمع ہزاروں افراد پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گولیاں چلا دیں تھیں جس کے نتیجے میں کم سے کم 54 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے ہلاکتوں کی ذمہ داری فوج پرعائد کی ہے جبکہ فوج کا موقف ہے کہ مظاہرین نے پرامن احتجاج ترک کرکے فوجی عمارتوں پرحملہ کردیا تھا،جس کے باعث فوج کو اپنے دفاع میں انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے گولی چلانا پڑی ہے۔ مصری پرسیکیوٹر جنرل نے ان ہلاکتوں کی شفاف عدالتی تحقیقات کا بھی اعلان کیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں