تیونس :سابق دور حکومت کے دو عہدے داروں کی جیل سے رہائی

عدالت کا سابق وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت کے سیکرٹری جنرل کو رہا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں حکام نے سابق صدر زین العابدین بن علی کے دورحکومت سے تعلق رکھنے والے دو اعلیٰ عہدے داروں کو جیل سے رہا کر دیا ہے۔

تیونس کی وزارت انصاف کے ایک بیان کے مطابق ان دونوں شخصیات کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر کا عوامی تحریک کے نتیجے میں تختہ الٹنے کے بعد اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وزارت انصاف نے بتایا ہے کہ سابق آمر صدر زین العابدین بن علی کی جماعت (اب کالعدم) ریلی برائے آئینی جمہوریت کے سابق سیکرٹری جنرل محمد غریانی اور سابق وزیرداخلہ عبداللہ خلیل کو ایک اپیل عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عبداللہ خلیل کو بن علی کے اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب فرار کے چند ہفتے کے بعد مارچ 2011ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان پر وکلاء کے ایک گروپ نے سابق حکمراں جماعت کے فنڈز خردبرد کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ سال ایک فوجی عدالت نے عبداللہ خلیل کو 1991ء میں سابق صدر زین العابدین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں فوجی افسروں کو گرفتار کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھیں یہ سزا پورے ہونے کے بعد جمعرات کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

محمد الغریانی کو اپریل 2011ء میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور جماعت کے فنڈز میں غبن کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کے کیس کی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ انھیں کس بنا پر رہا کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں