شام اور ایران کی یو این انسانی حقوق کونسل کی رکنیت پر نظر

بدترین ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے دونوں ناکام رہیں گے: یو این سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ایک اہم ذ مہ دار نے اس امر کا اشارہ دیا ہے کہ رواں سال کے اواخر میں شام اور ایران کی طرف سے یو این انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کی کوشش ناکام رہے گی۔ "اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلقہ امور کے نگران فورم کے مطابق اپنے شہریوں کے قتل اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے والے ملکوں کو عالمی سطح پر جج کا کردار نہیں سونپا جا سکتا ہے۔"

عالمی ادارے کے ایک اہم شعبے سے وابستہ سفارتکار نے بتایا ہےکہ''شام اور ایران انسانی حقوق کے حوالے سےاپنے مبینہ داغدار تعارف کے باوجود 47 ارکان پرمشتمل یو این حقوق انسانی کونسل کے رکن بننے کی امید لگائے بیٹھے ہیں''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اس ادارے کے 14 ارکان کا تین سال کے لیے انتخاب اگلے سال جنوری کے آغاز میں ہو گا۔ اس لیے دونوں مذکورہ ملک اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم یو این سفارتکار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا کہ ایران اور شام کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے یہ دونوں اس وقت ناکام رہیں گے جب جنرل اسمبلی کے 193 ارکا ن اس سلسلے میں اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔''

اس موقع پر یو این کے ایک اور ذمہ دارنے اس حوالے سے کہا کہ'' آئندہ آنے والا الیکشن ایک مزاحیہ پروگرام ہو گا۔'' یاد رہےشام نے اس سے پہلے 2011 میں بھی ایک مرتبہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بننے کی کوشش کی تھی تاہم مغربی اور عرب ممالک کی مخالفت کے باعث اسے دست برداری اختیار کرنا پڑی تھی۔ جبکہ اس وقت شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پہلے سے بھی خراب اور تقریبا ایک لاکھ افراد حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکا ہیں۔

اسی طرح انسانی حقوق کے معاملے پر تنقید کے خوف سے ایران بھی ایک مرتبہ اپنا نام واپس لے چکا ہے۔ تاہم ایرانی اور شامی سفاتکاروں نے اپنا موقف نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں