"غارِ حراء" حُجاج ومعتمرین کے شوق دیدار کا ابدی مرکز!

مسجد حرم سے 1045 قدم کی دوری پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دُنیا کےکونے کونے سے حج اورعمرے کا قصد لیے حجازمقدس پہنچنے والے فرزندان توحید کی آنکھوں میں دیدارحرم کے علاوہ اور بھی کئی مقدس اور تاریخی مقامات کی دید کے خواب بسے ہوتے ہیں۔ حُجاج کرام کے خوابوں کے اس تاج محل میں مسجد حرم سے کچھ ہی دوربلندی پر واقع جبل النور کا وہ مقام جہاں سے آفتاب نبوت کی پہلی کرن پھوٹی "غارِ حراء" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اہل اسلام کے لیے اس کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں آفتاب نبوت کی پہلی کرن روشن ہوئی اورجبریل امین پہلی وحی لے کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ یوں اس غارکو زمین پروہ شرف ملا جوخطہ زمین کے کسی دوسرے حصے کے مقدرمیں نہیں آیا۔

سطح سمندرسے 634 میٹر بلند غارحراء مکہ مکرمہ اور طائف کو ملانے والی شاہراہ سے چند سو میٹر کی بلندی پرواقع ہے۔ دیارِحرم کے مسافر ٹیلوں اور گھاٹیوں کے بیچوں بیچ بل کھاتے پیدل راستے پر1045 قدم چلتے ہوئے غار حراء کی زیارت کا شرف حاصل کرسکتے ہیں۔

پہاڑ کی بلندی اور پیدل راستے کے باوجود حجاج کرام اور معتمرین کے مابین غارحراء کے دیدارکے لیے مقابلے کی کیفیت رہتی ہے۔ ہرشخص سب سے پہلے مقام نورنبوت کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ جگہ تنگ اور رش زیادہ ہونے کے باعث حجاج کرام اورمعتمرین حضرات قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظارکرتے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات یہ انتظارکئی گھنٹوں پرمحیط ہوجاتا ہے لیکن شوق دید میں یہ گھڑیاں بھی پلک جھپکتے گذرجاتی ہیں۔

محل وقوع کے اعتبار سے بھی غار حراء ایک ایسی بلندی پرواقع ہے جہاں سے شہرمکہ، اس کی پر رونق گلیاں ، بازار اور حرم کا براہ راست مشاہدہ ایک ہی نظرمیں کیا جا سکتا ہے۔

پیغمراسلام کی لازوال تعلیمات کا مقام اولین قرار پانے والا یہ مقام کوئی تاریک اور خوف ناک غار نہیں، بلکہ یہ اندرسے صرف چار گز لمبی اور پونے دو گز چوڑی ایک چھوٹی سی بیٹھک نما جگہ ہے، لیکن اس کا دیدار ہرزائر حرم کے شوق سفرکا حصہ ہوتا ہے۔ اس مقام کا دیدار گوکہ مناسک حج و عمرہ کا حصہ تو نہیں لیکن کوئی بھی حاجی اور معتمر اپنے حج اور عمرہ کو اس وقت تک نامکمل خیال کرتا ہے جب تک وہ جبل النور پہ جا کر غار حراء کا دیدار نہ کرلے۔ زائرین دیارمقدسہ میں سے بعض تو باربارغار حراء کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن ایک مرتبہ غار حرا کودیکھنا ہرشخص ناگزیرسمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے خانہ کعبہ میں مقام طواف کی طرح یہاں بھی زائرین کا ھجوم رہتا ہے۔ لوگ قطارمیں کھڑے غارکے اندر جانے اور غارکے پرکیف لمحات سے اپنے ایمان کو تازہ کرنے کے منتظررہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں