.

طالبان کے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہوں: ملالہ یوسفزئی

ملالہ کی تقریر دنیا کے کئی ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قابل فخر بیٹی ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ شدت پسند تعلیم اور کتابوں سے ڈرتے ہیں۔ اپنی سولہویں سالگرہ پراقوام متحدہ کی یوتھ اسمبلی سے خطاب میں ملالہ کا کہنا تھا وہ طالبان کے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کو ان کی سولہویں سالگرہ پر اقوام متحدہ میں نوجوانوں سے خصوصی خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ اس موقع پرملالہ کا کہنا تھا: "تعلیم دنیا کے ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ قلم اور کتاب کے ذریعے دنیا میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔" انہوں نے کہا اسلام امن کا مذہب ہے۔ ملالہ کا کہنا تھا طالبان کا حملہ فروغ تعلیم کے لیے ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند قلم اور تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ ملالہ نے کہا وہ خود پرحملہ کرنے والے طالبان سے بھی نفرت نہیں کرتیں۔

پراعتماد لہجے میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ قائداعظم، مارٹن لوتھرکنگ اور مدر ٹریسا کی پیروکار ہیں۔ ملالہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی شال اوڑھ کر عالمی ادارے سے خطاب کرنا ان کے لیے فخر کا باعث ہے۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہونے والی یوتھ اسمبلی کے آغاز پر ملالہ کا تعارف عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ذاتی طور پر کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ فروغ تعلیم کے مشن کی چیمپئن اور ہماری ہیرو ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر آمد پر ملالہ یوسفزئی اور ان کے والدین کا خیر مقدم سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براٶن نے کیا۔ گورڈن براؤن نے ملالہ کو ان کی سہولہویں سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہا پوری دنیا ملالہ کے ساتھ ہے۔

شمال مغربی پاکستان میں پیدا ہونے اور وہیں پلنے والی ملالہ یوسفزئی اس وقت پاکستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی خونریزی سے بہت دور برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں انہیں گزشتہ برس علاج کے لیے پہنچایا گیا تھا۔ اس نوجوان طالبہ کو وادیء سوات میں گزشتہ برس نو اکتوبر کے روز ایک اسکول بس پر طالبان حملہ آوروں کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کے دوران سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔

اس طالبہ پر یہ حملہ اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ طالبان اور عسکریت پسندی کی مخالفت اور لڑکیوں کے لیے تعلیم کے بنیادی حق کی وکالت کرتے ہوئے عوامی سطح پر مہم چلا رہی تھی اور اس وجہ سے پاکستان میں کافی شہرت بھی اختیار کر گئی تھی۔

علاج اور طبی بحالی کے لیے برطانیہ پہنچائے جانے کے بعد ملالہ کی دوبارہ تندرستی کا عمل خاصا کامیاب اور تیز رفتار رہا تھا اور ہسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد سے یہ طالبہ ہر کسی کے لیے تعلیم سے متعلق اپنی مہم دوبارہ شروع کر چکی ہے۔

اپنی صحت مندی کے بعد ملالہ اب برطانیہ میں ایک اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی طرف سے ملالہ فنڈ کے نام سے ایک ایسا فلاحی ادارہ بھی قائم کیا جا چکا ہے، جس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ یوتھ اسمبلی میں 85 ملکوں کے 500 کے قریب یوتھ لیڈر بچوں کے لیے تعلیم کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔