.

ٹویٹر نے یہود مخالف ڈیٹا فرانسیسی حکام کے حوالے کردیا

یہودی طلبہ یونین کا ٹویٹر کے خلاف 3 کروڑ 85 لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر نے یہود مخالف مختصر تحریروں (ٹویٹس) کے لکھاریوں کی نشاندہی کے لیے ڈیٹا فرانسیسی حکام کے حوالے کردیا ہے۔


فرانس میں یہودی طلبہ کی یونین نے ٹویٹر پر صہیونیت مخالف تحریروں پر ایک قانونی شکایت درج کرائی تھی اور اس کی بنیاد پر ایک فرانسیسی عدالت نے جنوری میں کمپنی کو ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس نے یہ شکایت گذشتہ سال دو تین ٹویٹر اکاؤنٹس پر یہود مخالف تحریریں پوسٹ کیے جانے کے بعد کی تھی۔اس پر ٹویٹر نے بعض جارحانہ تحریروں کو ہٹا دیا تھا۔

ٹویٹر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس نے عدالتی حکام کو درکار معلومات فراہم کردی ہیں۔ان سے یہود مخالف ٹویٹس کے بعض لکھاریوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی''۔

بیان کے مطابق:''اس اقدام سے یہودی طلبہ یونین کے ساتھ تنازعے کے خاتمے میں مدد ملے گی اور دونوں فریقوں نے نسل پرستی اور یہود مخالف مہم کے خلاف جنگ کے لیے فعال طور پر کام کرنے سے اتفاق کیا ہے''۔

فرانس میں یہودی طلبہ کی یونین نے ٹویٹر کے خلاف مارچ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اس ویب سائٹ پر فرانسیسی عدالت کے حکم کی پاسداری میں ناکامی پر تین کروڑ پچاسی لاکھ یورو (پانچ کروڑ ڈالرز) ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

یونین نے کہا تھا کہ اگر وہ عدالت میں ٹویٹر کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ جیت گئی تو وہ ملنے والی رقم کو شعاع میموریل فنڈ میں دے گی۔یہودی طلبہ یونین ٹویٹر پر یہ دباؤ ڈالتی چلی آرہی ہے کہ وہ یہود مخالف تحریروں کو بروقت حذف کرنے کے لیے اپنا کنٹرول سخت کرے۔