.

"مرسی کی صدارت سے برطرفی جمہوریت پرحملہ ہے"

ایرانی جنرل کا مصری پیٹی بھائیوں کو سیاست سے گریز کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر جنرل حسن فیروزآبادی نے مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی فوجی بغاوت کے ذریعے صدارت سے برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جنرل فیروز آبادی نے کہا کہ محمد مرسی عوام کے بھاری مینڈیٹ سے صدر منتخب ہوئے۔ فوج نے انہیں معزول کرکے ملک میں جمہوریت پر براہ راست حملہ کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"دفاع المقدس" کوایک انٹرویو میں ایرانی فوج کے سربراہ نے اپنے مصری پیٹی بھائیوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی امور میں مداخلت سے اجتباب کریں۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل فیروز آبادی نے کہا کہ مصر میں خون ریزی کے حالیہ افسوسناک واقعات جمہوریت پر شب خون مارنے کا نتیجہ ہیں۔ مصری مسلح افواج کو اب اندازہ ہونا چاہیے کہ ان سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ مصر کی مسلح افواج کا ملک کے منتخب صدر کو تمام معاملات کو درست کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دینا عقل سلیم اور انقلابی روایات کے منافی اقدام تھا۔ ڈاکٹر محمد مرسی کو عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا صدر چنا تھا اور وہی ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانےکے ذمہ دار تھے۔

جنرل فیروز آبادی نے معزول صدرکو حراست میں رکھے جانے کی بھی شدید مذمت کی۔ ان کے بہ قول "ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت پر شب خون مصری فوج کی پہلی غلطی تھی۔ اس کے بعد صدر محمد مرسی کو حراست میں لینا دوسری بڑی تزویراتی غلطی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مصری فوج کو اپنی غلطی کا احساس جلد ہوگا اور وہ سیاسی امورمیں مداخلت سے کنارہ کشی اختیار کرلے گی"۔

خیال رہے کہ تین جولائی ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد مصر کی مسلح افواج نے ملک کا کنٹرول سنھبالتے ہوئے صدر کو برطرف کر دیا تھا۔ ایران نے مرسی کی معزولی کی پہلے بھی مذمت کی تھی، تاہم مصر کی نگراں حکومت نے ایرانی مذمت کو قاہرہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

"مصری عوام خود قصور وار ہیں"۔

مصرمیں رواں ماہ کے آغاز میں ظہور پذیر ہونے والی سیاسی تبدیلی ایران کے مذہبی حلقوں میں بھی زیربحث ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں جمعہ کے روز مختلف مساجد میں بھی آئمہ نے مصری سیاست کواپنی تقریروں کا موضوع بنایا۔

تہران کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب آیت اللہ علی امامی کاشان نے کہا کہ ڈاکٹر مرسی کوایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت سے اغماض کی سزا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق معزول صدر کا مصری اہل تشیع کے ساتھ بھی رویہ منفی رہا ہے۔

امام علی کاشانی کا کہنا تھا کہ "اگر مصر میں بھی ایران کی طرح کوئی ولی فقیہ ہوتا تو مصریوں کو آج یہ تاریک دن نہ دیکھنا پڑتا"۔ انہوں نے میں مصر میں منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے میں غیرملکی سازش کے امکان کو رد نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ مصر میں حالیہ سیاسی تبدیلی میں پس پردہ سازشی عناصرکا بھی ہاتھ موجود ہیں۔ علامہ کاشانی نے مصرمیں حالیہ فسادات پرعوام کو بھی مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ مصری عوام کسی عادل اور فقیہ سربراہ ریاست کو نہیں مانتے۔