.

اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں سعودی شہری کو 15 سال قید

پندرہ سال تک بیرون ملک سفر پر پابندی بھی سزاء میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی شہر جدہ میں ایک خصوصی عدالت نے ایک دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پندرہ سال قید اور رہائی کے بعد اتنی ہی مدت تک بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملزم کو کچھ عرصہ قبل سعودی حکام نے بیرون ملک سے واپسی پرجدہ ہی میں حراست میں لیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اردن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے اس کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں مخبری کردی تھی۔ سیکیورٹی گارڈ کے مطابق سعودی ملزم نے عمان میں صہیونی سفارت خانے کے ایک اہلکار سے ملاقات میں اپنے ملک کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

سعودی پولیس نے اُنہی الزامات کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا اور اس پرایک دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ سعودی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے ملزم کی سزائے موت کی سفارش کی گئی تھی تاہم عدالت نے پراسیکیوٹر کی سفارش تو قبول نہیں کی البتہ ملزم کو پندرہ سال قید اور رہائی کے بعد مزید پندرہ سال بیرون ملک سفر کرنے پرپابندی ہوگی۔ واضح رہے جدہ عدالت نے مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو اپنے فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی اختیار دیا ہے۔