.

عہد نُبوت کی لافانی یادگار"غار ثور" معتمرین کی توجہ کا مرکز!

تاریخی غار مسجد حرام سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرزمین حجاز اپنے دامن میں ایسے ان گنت تاریخی مقامات سموئے ہوئے ہے جو اسلامی ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کے بھی یادگار حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی میں مکہ معظمہ سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع "غار ثور" مسلمانوں اورغیر مسلم زائرین دونوں کی توجہ کا بھی مرکز چلا آ رہی ہے۔

مسجد حرام کے جنوب میں چار کلومیٹر دور اور سطح سمندر سے 748 میٹر بلندی پر واقع "غار ثور" اسلامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس غار کی وجہ شہرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام کی وہ اٹوٹ نسبت ہے جس نے غارکو لافانی تقدس عطا کیا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصائب وآلام سے بھرپور تیرہ سالہ مکی اور دس سالہ مدنی زندگی کے درمیان "واقعہ غار ثور" واقعات کے سلسلے میں ایک "سنگم" کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام اور آپ کے صحابہ پر کفارمکہ نے عرصہ حیات تنگ کردیا تو آپ اللہ کے حکم سے اپنے دیرینہ ساتھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لیے مدینہ منورہ کی طرف عازم سفر ہوگئے۔

مکہ اور مدینہ منورہ کے کئی روزہ سفرکا پہلا پڑاؤ "غارثور" تھا جس میں آپ اورحضرت ابو بکرصدیق نے تین دن اور تین راتیں قیام فرمایا۔ کفار نے آپ کا تعاقب کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے کفار کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ وہ غار کے دھانے تک گئے لیکن آپ کو نہ پاسکے۔

اس واقعے کو چودہ سو سال بیت چکے ہیں لیکن حرم کا کوئی بھی مسافر "غارثور" کی زیارت نہ کرے تو وہ اپنے سفرکو ادھورا خیال کرتا ہے۔ سنگلاخ چٹانوں کے بیچ اس غار کی اندر سے اونچائی صرف سوا میٹر ہے۔ اس کی مغربی اور مشرقی اطراف میں داخلی راستے ہیں۔

مورخین کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں مغربی سمت سے داخل ہوئے تھے۔ غار کے آس پاس بڑی بڑی چٹانیں آج بھی موجود ہیں جو ھجرت مدینہ کے اس پہلے سنگ میل کی بہ زبان حال آج بھی گواہی دیتی ہیں۔

غار کے اندرچٹانوں پرزائرین کی جانب سے عربی اور مختلف دیگر زبانوں میں عبارات تحریرکی گئی ہیں جنہوں نے غار کا اندرونی منظر مزید دلکش بنا دیا ہے۔

ویسے تو پورا سال "غار ثور" کی زیارت کے لیے دنیا بھرسے آئے مہمانان حرم کا رش لگا رہتا ہے لیکن رمضان المبارک اور حج کے مواقع پر اس غار کی رونق مزید بڑھ جاتی ہیں۔ رات کی تاریکی چھا جانے کے بعد بھی عاشقان رسول وہاں بیٹھے غار کے درو بام سے سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں۔