.

حماس کا یورپی ممالک کے ساتھ روابط کا انکشاف

جان بوجھ کران تعلقات کا چرچا نہیں کیا، سابق نائب وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی شوریٰ کے رکن اور سابق نائب وزیرِ خارجہ احمد یوسف نے یورپی ممالک کے ساتھ حماس کے روابط میں بہتری کی راہ ہموار ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اکثر یورپی ممالک حماس کیلئے اپنے دروازے کھولنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں حماس اور مختلف یورپی نمائندوں کے درمیان گزشتہ مہینوں میں کئی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔

حماس کے مرکزی رہنما نے اس امر کا اظہار برطانیہ کے ایک ممتاز روزنامہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا ہے۔ اسلامی تنظیم کےعہدیدارنے بتایا فی الحال حماس کے ساتھ یورپی ملکوں کے روابط اعلیٰ ترین سطح کے بجائے نسبتا نچلی سطح پر ہیں۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ ان رابطوں کا زیادہ چرچا نہ کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان رابطوں کا زیادہ ذکراس سلسلہ جنبانی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

برطانوی اخبار کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کی حکومتیں سرکاری پالیسی کے طور پر حماس کو سیاسی تنہائی میں رکھنا چاہتی ہیں۔ یاد رہے کہ2007ء میں یورپی یونین نے اپنے رکن ممالک اور حماس کے درمیان روابط ختم کروا دیے تھے جبکہ برسلز، حماس کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اسی وجہ سے برطانیہ ، ہالینڈ اور سویڈن نے سرکاری سطح پرحماس کے ساتھ روابط کی تردید کی ہے۔

اس تردید پر غزہ میں حماس کی حکومت میں خارجہ امور کے ناظم اور سابق وزیرِ صحت باسم نعیم کا کہنا تھا: "کچھ کام سرکاری سطح پرنہیں ہوتےاور انہیں میڈیا سے دور رکھا جاتا ہے۔ ہمارے بعض یورپی ملکوں کے ساتھ سرکاری سطح پربھی رابطے ہیں اور بعض سفارتکاروں اور سرکاری عہدیداران سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔"

واضح رہے سنہ2013ء کے اوائل میں حماس کے اعلیٰ عہدیداروں نے مبینہ طور پر ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد تحریک کے لئے یورپی دنیا کی حمایت حاصل کرنا تھا تاکہ اس کا نام یورپی یونین کی تیارکردہ دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرایا جا سکے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی "معا" نے حماس کے ایک سینئر رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "یورپی ممالک نے ایسا کرنے کی صرف ایک شرط رکھی تھی اور وہ اسرائیل کے اندر فدائی حملوں کو روکنا تھا ، حماس نے 2004ء کے بعد کوئی استشہادی مشن نہیں کیا۔ "