.

''معزول صدر ڈاکٹر مرسی کو رہا کیا جائے''، امریکی موقف تبدیل

مصر میں سیاسی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، خونریزی کا خطرہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے مصر کے فوج کے ہاتھوں بر طرف کیے گئے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے مصری فوج اور عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر مرسی کو رہا کیا جائے ۔ ڈاکٹر مرسی کی تین جولائی کو برطرفی کے ساتھ ہی ہو جانے والی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے ان کی رہائی کا کھلے عام مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے تین جولائی سے ڈاکٹر مرسی کو حراست میں لیے جانے سے اب تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ جبکہ معزول صدر کے حق میں جاری احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔اس صورتحال میں جمعہ کے روز امریکی سٹیٹ دیپارٹمنٹ کی ترجمان جین پاسکی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ''ان کا ملک جرمنی کی طرف سے ڈاکٹر مرسی کی رہائی کے لیے پہلےسے کی گئی اپیل سے اتفاق کرتا ہے۔اور امریکہ سب کے سامنے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ معزول مصری صدر مرسی کو رہا کیا جائے''۔

گزشتہ دنوں امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے جب ڈاکٹر مرسی کی بلا جواز گرفتاری کی مذمت کی تھی تو انہوں نے ڈاکٹر مرسی کی رہائی چاہنے یا نہ چاہنے کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا تھا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعہ کے روز بھی امریکی ترجمان نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ مرسی کی رہائی کے لیے امریکی موقف میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔البتہ امریکہ کی ترجمان نے یہ ضرور کہا "ہم شروع سے ہی ڈاکٹر مرسی اور الاخوان المسلمون کے کارکنوں کی سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں ''اس موقع پر امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا'' امریکی حکام مصری سوسائٹی کے تمام طبقات کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

ڈاکٹر مرسی کی الاخوان اور مرسی مخالف مصری دارالحکومت قاہرہ میں الگ الگ عوامی ریلیوں کا انعقاد کر رہے ہیں جس خطرہ ہے کہ عرب دنیا کے آبادی کے لحاظ سے اس سب سے بڑے ملک میں مزید خونریزی ہو گی۔اس لیے ہم متواتر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔''امریکی ترجمان نے مزید کہا'' ہم اب بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ مصر میں لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں رہا کیا جانا چاہیے''۔ '' بلا شبہ عبوری حکمرانوں نے ایک روڈ میپ دیا ہے لیکن آگے کی طرف سفر کو ہم ابھی دیکھنا چاہتے ہیں''اکثر جمہوریتیں جڑیں مضبوط بنانے میں کئی سال لے لیتی ہیں خصوصا حالیہ دہائیوں کی آمریتوں کے دور میں۔ '' امریکی ترجمان کے مطابق مصر میں امریکی سفیر این پیٹرسن عبوری صدر عدلی منصور سے مل چکی ہیں۔