تیونس میں "العربیہ" کی ٹیم پر حکمراں جماعت کے حامیوں کا تشدد

صحافتی تنظیموں کی جانب سے اقدام کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کی حکمراں جماعت "النہضہ" کے حامیوں نے "العربیہ" نیوز چینل کی ٹیم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے کیمرے توڑ دیے۔ صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے"النہضہ" کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "النہضہ" کے کارکنوں کی جانب سے العربیہ کی میڈیا ٹیم کو اس وقت ہراساں کیا گیا جب وہ دارالحکومت میں نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی کی کوریج کر رہی تھی۔ یہ ریلی مصرمیں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مذمت کے لیے نکالی گئی تھی، جس میں النہضہ کے کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی شریک تھے۔

العربیہ کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ کیمرہ کریو کے ہمراہ دارالحکومت تیونسیہ میں حکمراں جماعت کی کال پربلائے گئے جلسے کی کوریج کے لیے پہنچے ہی تھے کہ "النہضہ" کے حامیوں نے انہیں دھرلیا۔ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گالم گلوچ بھی کی اور ان کے کیمرے توڑ دیے گئے۔ حملہ آوروں نے ذرائع ابلاغ کے بعض دیگر نمائندوں کو بھی جلسے کی کوریج سے روک دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے صحافی بلقاسم القروی نے بتایا کہ تحریک النہضہ کے حامیوں کی جانب سے انہیں اور ان کے دیگر ساتھیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے کیمرے توڑ دیے گئے، العربیہ نیوز چینل کے خلاف شدید نعرے بازی ی اور انہیں جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا گیا۔

درایں اثناء تیونس کی صحافتی تنظیموں، عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے"النہضہ" کی مبینہ غنڈی گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تیونس میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم" پریس یونین" کے سیکرٹری نجیبہ الحمرونی نے "العربیہ" کی ٹیم پر"النہضہ" کے حامیوں کی مذمت کی اور اسے آزادی صحافت پرحملہ قرار دیا۔ الحمرونی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں بالخصوص العربیہ کی ٹیم پرحملے میں ملوث عناصرکے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کا گلا دبوچنے کی جو پالیسی سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کے دورحکومت میں رائج تھی وہ آج کی انقلابی حکومت کے دور میں بھی جاری ہے۔ الحمرونی کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے وضع کردہ قوانین پرعمل درآمد میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں