دارفور میں یو این اور افریقی یونین کے سات امن فوجی ہلاک

مارے جانے والے اہلکاروں میں دو خواتین بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سات امن فوجی ہلاک جبکہ سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔

دارفور میں تعینات اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی مشترکہ امن فوج کی طرف سے ہفتے کی شام بتایا گیا کہ یہ واقعہ دارفور کے شمال میں واقع نائلہ کے نواحی علاقے مانا واشی میں پیش آیا۔ سن 2008 کے بعد پہلی مرتبہ کسی پر تشدد واقعے میں وہاں تعینات امن فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

حکام کے حوالے سے خبر رساں ادارے رائیٹرز کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے جنوبی دارفور میں گشت پر مامور ایک ٹیم پر حملہ کر دیا۔ اس علاقے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کی زیادہ تر ذمہ داری تنزانیہ کی فورسز کے پاس ہے۔ افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی مشترکہ امن فوج نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

مشترکہ امن فوج نے ہلاک شدگان کی قومیتوں کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں تاہم امکان ہے کہ اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق تنزانیہ سے ہو سکتا ہے۔ حکام کے بقول نامعلوم افراد کے حملے بعد فوری طور پر اضافی فورسز متعلقہ علاقے کی طرف روانہ کر دی گئی تھیں، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد متعدد امن فوجیوں کو بچا لیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے پریس آفس سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خونریز حملے پر بان کی مون نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ بیان کے مطابق، ’’سیکرٹری جنرل کے امن فوجیوں پر اس انتہائی نفرت انگیز حملے کی مذمت کرتے ہیں، جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ بان کی مون امید کرتے ہیں کہ سوڈان کی حکومت اس حوالے سے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔‘‘

دارفور کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 2007ء میں شروع کیے گئے اس مشن کے تحت وہاں یو این اور افریقی یونین مشترکہ امن فوج کے سولہ ہزار فوجی تعینات ہیں۔ اس علاقے میں افریقی قبائل نے 2003 ء میں خرطوم حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی تھی۔ ان باغی گروپوں کے بقول عرب نواز حکومت ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ اس بحران زدہ علاقے میں باغیوں کی طرف سے پہلے بھی متعدد بار امن فوجیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے دوران اب تک درافور کی خراب صورتحال کی وجہ سے تین لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دارفور میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سوڈانی صدر عمر حسن البشیر اور ان کے کئی ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں۔ تاہم سوڈانی صدر ان الزامات کی صحت سے انکار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بین الاقوامی عدالت کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں