مصر:"تمرد" اور"سیسی" کھجوریں ہارٹ فیورٹ،"النہضہ" نظر انداز

اشیائے صرف کی چیزوں پر بھی سیاسی رنگ غالب آنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں جاری حکومتی کے اکھاڑ پچھاڑ کے جُلو میں عوام میں سیاسی شعور تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ ملک میں کوئی بھی عوامی تحریک شروع ہوتے ہی اس کے نمایاں اثرات معاشرے کے مختلف طبقات حتیٰ کہ تجارت اور معیشت پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ دکاندار اپنے مال کی سیل بڑھانے کے لیے سیاست دانوں کی پسند وناپسند کی مہم چلاتے،"محبوب قائدین" کی تصویروں سے اپنی دکانوں کو مزین کرتے اورمخالفین کے پوسٹرجلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

مملکت کے طول وعرض میں معیشت پرسیاست کا رنگ سابق مرد آہن سید محمد حسنی مبارک کے خلاف برپا عوامی انقلاب کے بعد چڑھنا شروع ہوا، جواب مصری سماج کی ایک روایت بنتا جا رہا ہے۔ حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد پہلے رمضان المبارک کے موقع پردکانداروں نے غیرمعیاری کھجوروں کو"فلول" یعنی سابق نظام حکومت کی "باقیات" کا نام دیا۔ ان کے مقابلے میں اعلیٰ معیار کی کھجوروں کو"شہداء"، "التحریر"، "الثوار" اور "آسفین یا رئیس" جیسی انقلابی اصطلاحات اور ناموں سے موسوم کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں ماہ صیام کی آمد سے چند دن قبل مصر ایک مرتبہ پھر سیاسی تبدیلی سے گذرا۔ منتخب صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی حکومت کی پہلی سالگرہ پران کے خلاف "تمرد" نامی عوامی تحریک اٹھی جو ملک میں فوجی بغاوت پر منتج ہوئی۔ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے منتخب صدر کا تختہ الٹ دیا۔ یوں اس سارے منظر نامے میں سامنے آنے والی اصطلاحات ایک مرتبہ پھر معیاری اور غیرمعیاری کھجوروں کی شکل میں دکانوں پربھی فروخت کے لیے پیش ہیں۔ اب کی بارجنرل عبدالفتاح سیسی کے نام سے موسوم "السیسی"، باغیوں کی نئی تحریک "التمرد"، "التجرد" "الشہداء" اور "الثوار" کھجوریں زیادہ مقبول ہیں جبکہ "النہضہ" اور"مرسی" کھجوروں کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں