"شام میں یرغمال بنائے گئے دو فرانسیسی صحافی زندہ ہیں"

دونوں کی رہائی کی ہر ممکن کوشش جاری ہے: فرانسیسی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزیر دفاع کے مطابق مغوی فرانسیسی صحافیوں کی رہائی کیلیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں، دونوں فلسطینی صحافیوں کو شام آمد کے فوراً بعد اغوا کیا گیا تھا۔

فرانسیسی وزیر دفاع یانیف لےڈریان نے شام پہنچنے کے فورا بعد اغوا ہو جانے والے دو فرانسیسی صحافیوں کے زندہ سلامت ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیرس ان کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ دونوں فرانسیسی صحافی ایک ماہ قبل شام پہنچے تھے۔

یورپ ون ریڈیو کے منجھے ہوئے جنگی وقائع نگار ترپن سالہ ڈیڈیئے فرانسوا اور بائیس سالہ فوٹوگرافر ایڈوا الائیس کو حلب جانے والی شاہراہ پر لگے ناکے پر روکا گیا جہاں سے انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔ ابھی تک فرانسیسی صحافیوں کے اغوا کاروں کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

فرانسیسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یرغمالی صحافیوں کی رہائی کے لئے شرائط پوری کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ ان کی رہائی جلد از جلد یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ "یرغمال بنائے گئے صحافی زندہ ہیں اور ہم ان کی رہائی کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ "یہ ان دونوں سمیت ہم سب کے حق میں ہے، مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا ہے۔"

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز ود آٶٹ باڈرز' کے مطابق شام میں مارچ سنہ دو ہزار گیارہ سے جاری خانہ جنگی سے ابتک چوبیس صحافی اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ تیئس افراد ابھی تک مختلف مقامات پر قید میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں