مصر: امریکی ایلچی کے دورے کے موقع پر مرسی نواز مظاہرے

ولیم برنز قاہرہ میں حکومتی، فوجی اور سیاسی شخصیات سے ملیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی آج [بروز پیر] قاہرہ میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب امریکی نائب وزیر خارجہ ولیم برنز اپنے ایک انتہائی اہم دورے پر مصر پہنچ گئے ہیں۔

یہ جولائی کے آغاز میں صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد کسی اہم امریکی اہلکار کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ مصر کی فوج سے پہلے ہی معزول صدر مرسی کی رہائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

اس دورے میں امریکی ایلچی قاہرہ میں عبوری حکومت، ملکی فوج اور سیاستدانوں پر زور دیں گے کہ سابق صدر مرسی کی برطرفی اور فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد اس عرب ریاست میں جلد از جلد ایک منتخب سویلین حکومت کو اقتدار میں آنا چاہیے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کے مطابق امریکی ایلچی کو اپنے دورے کے دوران پریشان کن سوالات کا سامنا پڑ سکتا ہے کیونکہ قاہرہ کی سڑکوں پر امریکی سفیر این پیڑسن کے قد آدم پوسٹرز پر 'جادوگرنی واپس جاٶ' جیسے نعرے درج ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ولیم برنز مصر میں حکومتی، فوجی اور سیاسی شخصیات کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اسلام پسند اخوان المسلمون کے حامیوں سے بھی ملیں گے۔

ولیم برنز ایک ایسے وقت میں مصر آئے ہیں جب عدالتی ذرائع کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے چودہ رہنماؤں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر معزول صدر مرسی اور اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف جاسوسی، مظاہرین کو ہلاک کرنے پر اکسانے، فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے جیسی شکایات کی تحقیقات بھی کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن رہنماؤں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں ان میں اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں