وارنٹ گرفتاری باوجود سوڈانی صدرعمر البشیر کا دورہ نائیجیریا

"آئی سی سی" کے رکن ملک مطلوب افراد کی گرفتاری کے پابند ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے صدر عمرحسن البشیرعالمی عدالت انصاف "آئی سی سی" کے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود آزادانہ نقل وحرکت اور دوسرے ممالک کے دورے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صدر البشیر پڑوسی ملک نائجیریا پہنچے ہیں، جہاں وہ افریقی یونین کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے عمر البشیر کی نائجییریا آمد پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے نیجرحکام سے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

قبل ازیں انسانی حقوق کے گروپ نے نائیجیریا سے اپیل کی تھی کہ وہ عمرالبشیر کوافریقی یونین کے سربراہی سمٹ میں شرکت کی دعوت نہ دے، اگر صدر البشیر اس کے باوجود نائیجیریا آنے کی کوشش کریں تو انہیں حراست میں لے لیا جائے۔ خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف کے تمام رکن ممالک عدالت کو مطلوب شخصیات کی گرفتاری میں مدد دینے پابند ہیں۔ نائجیریا بھی "آئی سی سی" کا رکن ہے، تاہم عمر حسن البشیر بلا خوف و خطر نائجیریا کے دورے پر ابوجا پہنچے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور شورش زدہ علاقے دارفور میں جنگی جرائم کی پاداش میں صدر البشیر کو اشتہاری قرار دے کر ان وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ سفری پابندیوں کے باوجود عمرالبشیر خصوصی طیارے کے ذریعے اتوار کو نائیجیریا پہنچے، جہاں وزیر برائے پولیس و سیکیورٹی امورغالب الوبولادی سمیت دیگراعلیٰ حکام نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔

عمر البشیرکی آمد پرانسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کی خاتون ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے عالمی عدالت انصاف نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "عمرالبشیر کی آمد نائجیریا کے لیے حقیقی امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نائیجرحکام عالمی عدالت کے فریم ورک کی پابندی کرتے ہوئے سوڈانی صدر کو گرفتار کرتے ہیں یا نہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کے کئی ممبرممالک نے اس نوعیت کے مسائل کواحسن طریقے سے نمٹا دیا ہے۔ نائیجیریا کوبھی عمر البشیر کو حراست میں لے کراس کی مثال قائم کرنی چاہیے۔

یہاں یہ امرواضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے سوڈانی صدر کے وارنٹ گرفتاری سنہ 2009ء میں جاری کیے تھے، لیکن وہ گرفتاری کے خدشات کے باوجود افریقی ملکوں کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد صدر البشیر اب تک چاڈ، جیبوتی اور کینیا جیسے افریقی ملکوں کے دورے کرچکے ہیں۔ تاہم جنوبی افریقا، بوٹسوانا اور یوگنڈا نے انہیں اپنے ہاں دورے سے روک دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں