بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر کو 90 سال قید کی سزا

پاکستان توڑنے کی مخالفت کو 'جنگی جرائم' قرار دیکر غلام اعظم کو سزا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج سے بیالیس سال قبل پاکستان توڑنے کی مخالفت کرنے والی جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کے امیر پروفیسر غلام اعظم کو حسینہ واجد حکومت کے تشکیل کردہ جنگی جرائم کے ٹربیونل نے 90 سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ بنگلہ دیشی ٹریبونل نے انہیں یہ سزا مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں دی ہے ۔

پیر کے روز متوقع سزا کے فیصلے سے ایک دن پہلے ہی ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے جو عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیے جانے والے بنگالی ٹریبونل کے اختیار اور اس کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انتالیس سال سے زائد عرصہ تک پرامن سیاسی جدوجہد اور جمہوری و پارلیمانی حکومتوں کا حصہ رہنے والی جماعت اسلامی کے خلاف 2010 سے جاری حسینہ حکومت کی عدالتی کوششیں اس وقت رنگ لے آئیں جب بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سب سے بڑے رہنما 90 سالہ پروفیسر غلام اعظم کو ''انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل'' نے 90 سال قید کی سزا سنا دی۔ بنگلہ دیش کے پراسیکیوٹر کے مطابق اس سزا کو تاحیات سزائے قید بھی تصور کیا جائے گا۔ اس سے پہلے حسینہ حکومت کا قائم کیا گیا یہ ٹریبیونل جماعت اسلامی کے تین دیگر رہنماوں کو بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت سزائیِں سنا چکا ہے.

حالیہ عدالتی اور جنگی تاریخ کا یہ پہلا ''انٹر نیشنل کرائمز ٹریبونل' ہے جسے عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تائید حاصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں خود بنگلہ دیش کے اندر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ٹریبونل نے پیر کے روز پروفیسر غلام اعظم کو سزا سنائی تو عدالت کے اندر غیر معمولی حفاظتی انتظامات تھے جبکہ عدالت کے باہر سزا کے خلاف مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی خبرِین آ رہی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں