مصر میں گذشتہ روز کی جھڑپوں کے بعد 400 افراد گرفتار

شہر کے مختلف حصوں میں ہونے والی جھڑپوں کی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری دارلحکومت قاہرہ کے وسطی علاقے رمسیس میں گذشتہ شب برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں، کی پولیس، اہل علاقہ اور صدر کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد چار سو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ادھر الجیزہ شہر کے باسیوں اور صدر مرسی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد قاہرہ کے گلی کوچوں میں صورتحال پرامن مگر کشیدہ ہے۔ رمسیس اسکوائر میں ٹریفک کسی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم علاقے میں پریشانی کی صورتحال نمایاں ہے۔ ادھر مصری پراسیکیوٹر جنرل نے گزشتہ روز ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

درایں اثناء ایمرجنسی کیئر شعبے کے سربراہ ڈاکٹر خالد الطیب نے پیر و منگل کی شب ہونے والے واقعات میں 07 افراد کی ہلاکت جبکہ261 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہ افراد قاہرہ کے رمسیس سکوائر، 16 اکتوبر برج، قاہرہ یونیورسٹی کے سامنے 'النہضہ' سکوائر اور البحر الاعظم روڈ پر صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہو زخمی ہوئے۔

مصر سے ہی موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ الجیزہ سکوائر میں اہالیاں علاقہ اور شامی صدر کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں آتشیں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب صدر مرسی کے حامیوں نے الجیزہ کے سب سے بلند پل کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔

ادھر مصری اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ ھشام برکات نے البحر الاعظم روڈ اور رمسیس سکوائر میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

اخوان المسلمون نے صدر مرسی کی حمایت میں مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے تاکہ عوامی دباٶ کے ذریعے ان کا اقتدار دوبارہ بحال کرایا جا سکے۔ ان کے مخالفین کی رائے میں ان مظاہروں کی آڑ میں اخوانی کارکن ملک میں معمول کا نظام زندگی معطل کرتا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ملک کے اہم راستوں، پلوں اور سکوائر میں نظام زندگی معطل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں