مصر کی 33 رکنی نئی عبوری کابینہ کی حلف برداری

مسلح افواج کے سربراہ اول نائب وزیراعظم بن گئے، تین خواتین کابینہ میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد تشکیل پانے والی نئی عبوری کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے اور اس میں لبرل اپوزیشن کے ارکان کو اہم وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ برطرف صدر کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون نے عبوری کابینہ کو مسترد کردیا ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے نئی کابینہ کی حلف برداری پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ''ہم عبوری حکومت کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں''۔

عبوری کابینہ میں اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی وزیر شامل نہیں ہے۔سلفی تحریک کی جماعت حزب النور کو بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے حالانکہ اس نے مسلح افواج کے انتقال اقتدار کے لیے نقشہ راہ کی حمایت کی تھی۔

عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی کی قیادت میں نئی عبوری کابینہ میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو اول نائب وزیراعظم اور وزیردفاع مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل السیسی ہی نے ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔

برطرف صدر کی حکومت میں وزیرداخلہ کے منصب پر فائز محمد ابراہیم کو اس نئی کابینہ میں ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے جبکہ امریکا میں مصر کے سابق سفیر نبیل فہمی کو وزیرخارجہ بنایا گیا ہے۔

عبوری صدر عدلی منصور نے نئی کابینہ میں تین خواتین کو وزیر بنایا ہے اور انھیں صحت ،اطلاعات اور ماحولیات کی اہم وزارتیں دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ مصر کی ماضی کی حکومتوں میں صرف ایک یا دو خواتین ہی کو وزیرمقرر کیا جاتا رہا تھا۔

منگل کو حلف اٹھانے والے وزراء میں مصر کے فٹ بال کے معروف کھلاڑی طاہر ابو زید بھی شامل ہیں۔انھیں وزیر برائے امور نوجواناں مقرر کیا گیا ہے۔وہ قاہرہ کی الاہلی کلب کے مڈفیلڈر رہے ہیں اور 1980ء کے عشرے میں انھوں نے مصر کی قومی ٹیم میں نمائندگی کی تھی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر مرسی کے حامی ان کی برطرفی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور نئی کابینہ کی حلف برداری سے چندے قبل ہی سابق صدر کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں سات مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں