چِلی میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں 'آوارہ کُتے' بھی شامل

اشک آور گیس کی شیلنگ سے کتے بھی انسانوں کی طرح متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دُنیا میں عامتہ الناس کا حکومتوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کوئی انہونی بات نہیں بلکہ اسے روزہ مرہ کا معمول سمجھا جاتا ہے، لیکن دلچسپ خبریہ ہے کہ جنوبی امریکا کے ملک چلی میں حکومت مخالف مظاہروں میں سیکڑوں آوارہ کتوں نے بھی احتجاج میں بھرپورحصہ لیا اور پولیس کی اشک آورگیس کی شیلنگ کا سامنا کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی حکومت کیخلاف 'بھونک' سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو لیبریونین کی کال پرایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں سیکڑوں لوگ شریک ہوئے اور انہوں اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے سڑک پر جمع ہوتے ہی اچانک گلیوں اور محلوں سے آوارہ کتے بھی نکل کر ان میں شامل ہونا اور پولیس پر بھونکنا شروع ہو گئے۔

چلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پرلاٹھی چاج کیا، ان پر تیز دھار پانی پھینکا اور اشک آور گیس کے شیل فائر کئے۔ مظاہرین کے ساتھ 'یکجہتی' کے لیے آئے آوارہ کتوں نے بھی پولیس کی لاٹھیاں کھائیں اوراشک آور گیس کی شیلنگ سے متاثرہوئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے آوارہ کتوں کے احتجاج میں شامل ہونے سے مظاہرین کے حوصلے مزید بڑھ گئے اور وہ زور زور سے حکومت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ کتوں نے نہ صرف پولیس پربھونک کراپنا احتجاج ریکارڈ کرایا بلکہ وہ مظاہرین کو پولیس پر پھینکنے کے لیے پتھر بھی اٹھا اٹھا کر دیتے رہے۔ مظاہرین جو پتھرپولیس پرپھینکتے، کتے دوڑ کر انہیں منہ میں اٹھاتے اور دوبارہ مظاہرین کے سامنے ڈال دیتے۔

چلی کے ایک ماہر امراض حیوانات فرنڈو الفاریزنے خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ پولیس کی آنسو گیس کی شیلنگ سے کتے بھی اسی طرح متاثر ہوئے ہیں جس طرح لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سینٹیاگو میں ہوئے مظاہروں کے دوران پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں کتوں کی آنکھوں میں جلن اور سانس لینے کی تکالیف پیدا ہوئیں۔

آوارہ کتوں کی احتجاجی مظاہروں میں شرکت حکومت کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے، کیونکہ کچھ ہی عرصہ قبل چلی حکام نے ملک میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ان کے اعدادو شمار جمع کیے تھے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق چلی میں کم سے کم پانچ ہزار آوارہ کتے موجود ہیں، ان میں سب سے زیادہ تعداد دارالحکومت سینٹیاگو میں پائی جاتی ہے۔

بیشتر اوقات یہ آوارہ کتے گروپوں کی شکل میں خوراک کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں گرم پناہ ڈھونڈنے کے لیے وہ اکثرو بیشتر دوڑ کربسوں پربھی چڑھ جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں