.

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے اہم رہنما کو سزائے موت سنا دی گئی

علی احسان محمد مجاہد پر نسل کشی، اغوا اور قتل سمیت سات الزام تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹربیونل نے پاکستان توڑنے کی مخالفت کرنے والی جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سالہ علی احسان محمد مجاہد کو حسینہ واجد حکومت کے تشکیل کردہ جنگی جرائم کے ٹربیونل نے سزائے موت سنائی ہے۔ ٹریبونل نے انہیں یہ سزا مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں دی ہے۔

بنگلہ دیش میں حکومت کی طرف سے قائم کردہ جنگی جرائم کی متنازعہ خصوصی عدالت نے پینسٹھ سالہ علی احسان محمد مجاہد کو پانچ الزامات میں مجرم ٹھہرایا ہے۔ نسل کشی، اغوا اور قتل سمیت مجموعی طور پر ان پر سات الزامات عائد کیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق دارالحکومت ڈھاکا میں بدھ کے روز سنائے جانے والے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کے جونیئر اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر ایم کے رحمان کا کہنا تھا کہ ’’انہیں پانچ میں سے تین الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔‘‘

جس وقت فیصلہ سنایا گیا، اس وقت علی احسان محمد مجاہد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ خصوصی عدالت کا کہنا تھا کہ وہ ایک صحافی کے اغوا اور اس کے قتل کے علاوہ ایک میوزک ڈائریکٹر اور ان درجنوں افراد کے قتل میں ملوث تھے، جو سن 1971ء میں پاکستان سے علاحدگی حاصل کرنے کی جنگ میں سرگرم تھے۔ دفاعی وکلاء نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے بنایا گیا ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل‘ رواں برس جنوری کے بعد سے جنگی جرائم کے الزامات کے تحت جماعت اسلامی کے پانچ سرکردہ رہنماؤں کو سزا سنا چکا ہے۔ قبل ازیں جماعت اسلامی کے تین رہنماؤں کو سزائے موت، ایک کو عمر قید اور گزشتہ پیر کو نوے سالہ پروفیسر غلام اعظم کو 90 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس ممکنہ فیصلے کے خلاف جماعت اسلامی نے پہلے ہی ملک بھر میں عام ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم ماضی کے برعکس ابھی تک کسی بھی بڑے پرتشدد واقعے کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس فیصلے سے پہلے جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کی صورت میں جمعرات کو بھی عام ہڑتال کی جا سکتی ہے۔

اس متنازعہ ٹریبیونل کی طرف سے ماضی میں سنائی جانے والی سزاؤں کے خلاف عوامی سطح پر شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 150 بتائی جاتی ہے۔ اس عدالت میں جن ملزمان کے خلاف مقدمے چلائے جا رہے ہیں، ان کا تعلق یا تو جماعت اسلامی سے ہے یا پھر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بی این پی سے۔