.

بھارتی سکول میں زہریلا کھانا کھانے سے 21 بچے جا٘ں بحق

سکول پرنسپل موقع سے فرار، والدین کا سخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی ریاست بہار کے دور افتادہ گاوں کے ایک پرائمری سکول میں دوپہر کا کھانا کھانے والے 21 بچے لقمہ اجل بن گئے۔ مجموعی طور کھانا کھانے والے ستر کے قریب بچوں میں سے27 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ پولیس کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلع سارنا کے ایک دیہاتی سکول میں بچوں کو دیے گئے کھانے کی وجہ سے بچوں کی حالت بگڑنا شروع ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق سکول میں بچوں کو دال چاول کھانے کو دئیے گَئے تھے جسے کھاتے ہی بچوں کی حالت غیر ہو گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سارنا کے اس گائوں سے ہسپتال تقریبا ایک سو کلومیٹر دور تھا جس کے نتیجے میں بیس کے قریب بچے سکول اور ہسپتال کے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ اس کے کچھ دیر بعد 11 مزید بچے طبیعت خراب ہونے کے باعث ہلاک ہو گئے اور مزید 60 بچوں کو پٹنہ میڈیکل کالج سے منسلک ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ اسپتال کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ "دس بچوں کی حالت انتہائی نازک ہے"۔ پہلے مرحلے میں بیس بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ اسپتال میں زیرعلاج 48 بچوں میں سے 27 بچوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ ضلع سارنا میں بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں بھارتی شہری احتجاج کر رہے ہیں اور وہ حکومت سے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ضلع سارنا میں بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں بھارتی شہری احتجاج کر رہے ہیں اور وہ حکومت سے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے فورا بعد سکول کی پرنسپل فرار ہو گئی۔ مقامی پولیس نے سکول کی پرنسپل کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے ہر بچے کے گھرانے کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ماضی میں بھی کئی سکولوں میں دوپہر کے کھانوں سے مردہ جانور اور حشرات الارض ملتے رہے ہیں۔ طلباء اور ان کے والدین احتجاج کرتے رہے ہیں۔