.

بھارت میں بلوغت کی حد 18 سے 16 سال کرنے کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ کا فیصلہ، میڈیکل طالبہ قتل کیس کے فیصلے سے چند دن پہلے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی اعلیِ ترین عدالت سپریم کورٹ نے بلوغت کی حد اٹھارہ سال سے کم کر کے سولہ برس کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سپریم میں یہ درخواست دسمبر 2012 میں دوران سفر بس میں میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی اور قتل کے سانحے کے بعد مقامی وکیل نے دائر کی تھی۔

بھارتی قانون کے تحت کوئی بھی شخص مفاد عامہ کے لیے عدالتوں سے رجوع کر سکتا ہے۔

واضح رہے بس سانحے کے چھے ملزمان میں سے ایک مبینہ طور پر اٹھارہ سال سے کم کا نا بالغ تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں غم و افسوس کا ماحول دیکھا گیا تھا، جبکہ مقتولہ کے والدین نےعمر کی تفریق کے بغیر تمام ملزمان کو قرار واقٰعی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس نے بھی اپنی رپورٹ میں نابالغ ملزم کو زیادہ درندگی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

اس سلسلے میں ایک مقامی وکیل نے بھارت میں بڑھتے ہوئے جرائم میں نوجوانوں اور نابالغوں کے ملوث ہونے کی شرح زیادہ ہو جانے کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ مختلف جرائم میں ملوث اٹھارہ سال تک کے ملزمان کو بھی وہی سزا سنائی جائے اور بلوغت کی حد کم کر کے سولہ سال تک کر دی جائے۔

تاہم عدالت نے درخواست یہ کہہ کر خارج کر دی ہے کہ اس کے باوجود کہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچمے والے ملزمان کتنے ہی سنگین جرائم میں ملوث ہوں بلوغت کی حد میں کمی نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے سانحہ بس کے سلسلے میں عدالتی فیصلہ اگلے ہفتے متوقع ہے اور اس فیصلے کے سامنے آنے سے پہلے سپریم کورٹ کا یہ حکم اہم بات ہے۔