.

مسجد قباء: چودہ صدیوں سے اسلامی شان وشوکت کا مینارہ نور

اسلامی ریاست کی پہلی مسجد کی 90 ملین ریال کی لاگت سے توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام کی صدیوں پر محیط پُرشکوہ تاریخ میں مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی پہلی مسجد" قباء" آج بھی اپنی شان وشوکت اور عظمت کا مینارہ نور ہے۔ روایت کے مطابق مسجد قباء کا سنگ بنیاد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ھجرت کے پہلے سال رکھا۔ یہ مسجد مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں مسجد نبوی سے تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مسجد قباء کی بنیاد خود رسول للہ صلی علیہ وسلم نے رکھی لیکن چودہ صدیوں کے طویل سفرمیں یہ مسجد بھی تعمیرو توسیع کے کئی ادوار سے گذری ہے۔ جامع مسجد قباء کی آخری توسیع موجودہ السعود خاندان کے دور میں کوئی پون صدی پہلے مکمل کی گئی تھی، جس پر90 ملین ریال کی لاگت آئی تھی۔ مسجد کی اندرونی دیواروں پر قرآنی آیت کی خطاطی کے نمونوں کے ساتھ اس کے گنبد ومینار اور محراب کوخوبصورت نقش نگار سے آراستہ کیا گیا ہے جو اسلامی فن تعمیرکا ایک شاہکار ہے۔

مسجد کے اندرونی صحن میں دھوپ سے بچنے کے لیے برقی رو سے کھلنے اور بند ہونے والا ایک خود کار سائبان بھی لگایا گیا ہے۔ مسجد میں کم سے کم بیس ہزارافراد بیک وقت با جماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔

حج اور عمرہ کے موسموں میں دنیا بھر سے آئے لاکھوں لوگ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے بعد ایک مرتبہ مسجد قباء میں ضرورجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد کا دیدار کرنے والوں کا ہمیشہ ہی یہاں غیر معمولی رش لگا رہتا ہے۔