.

اخوان کی فوجی انقلاب کی مذمت نہ کرنے پر یورپی یونین پر کڑی تنقید

کیتھرین آشٹن کی مصری سیاست دانوں سے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سابق جزوی حکمراں اور اب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون نے منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے کے اقدام کی مذمت نہ کرنے پر یورپی یونین پر کڑی تنقید کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے قاہرہ کے دورے کے موقع پر برطرف صدر کی حامی شخصیات سے ملاقات کی ہے۔ان میں سابق وزیراعظم ہشام قندیل اور اخوان کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی(ایف جے پی) کے بعض عہدے دار شامل تھے۔

ایف جے پی نے اس ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''وفد نے مصرمیں فوجی انقلاب سے متعلق یورپی یونین کے سرکاری موقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ یورپی تنظیم نے اس فوجی انقلاب کی مذمت نہیں کی ہے ،جس نے مصری عوام کو ان کے صدر اور پارلیمان کے انتخاب اور آئین وضع کرنے کے حق سے ہی محروم کردیا ہے''۔

کیتھرین آشٹن نے مصرکی نئی عبوری حکومت کے بعض عہدے داروں اور برطرف صدر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والے گروپ تمرد کے بعض لیڈروں سے بھی ملاقات کی ہے۔انھوں نے کہاکہ یورپی یونین مصر میں تمام فریقوں کی شمولیت سے جمہوری عمل کی جانب تیزی پیش رفت کی خواہاں ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کے دورۂ مصر سے صرف ایک روز قبل ہی نئی عبوری کابینہ نے حلف اٹھایا ہے۔اخوان المسلمون اور سلفی تحریک کی جماعت حزب النور نے اس عبوری کابینہ میں شمولیت کی پیش کش مسترد کر دی تھی اور اخوان نے نئی عبوری حکومت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

کیتھرین آشٹن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کی برطرف صدر مرسی سے ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔انھوں نے زیرحراست سابق صدر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے تین جولائی کو ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انھیں کسی نامعلوم مقام پر نظر بند کردیا تھا۔یورپی یونین سے قبل امریکا اور جرمنی بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

تاہم امریکا نے اپنے مفادات کے تحت ابھی تک منتخب جمہوری صدر کے خلاف انقلاب کو فوجی بغاوت قرار نہیں دیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اردن کے دارالحکومت عمان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اسلامی صدر کی برطرفی سے بہت ہی پیچیدہ اور مشکل صورت حال پیدا ہوگئی ہے''۔

مصر میں ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون اور دیگر جمہوریت پسندوں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔گذشتہ ہفتے ان کے حامیوں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں تریپن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اخوان اوردوسری جماعتوں نے جمعہ کو بڑی احتجاجی ریلیاں نکالنے کے اعلانات کیے ہیں۔