.

امریکی مسلمان طالبہ کیلیفورنیا یونیورسٹی بورڈ کی رکن منتخب

یہودی لابی کی مخالفانہ مہم کے باوجود سعدیہ کو بورڈ کے 25 ووٹ ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ممتاز امریکی درسگاہ کیلیفورنیا یونیورسٹی نے امریکی مسلمان طالبہ سعدیہ سیف الدین کو یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ کا رکن بنائے جانے پر یہودی لابی نے مخالفانہ مہم شروع کر دی، تاکہ اس مسلمان طالبہ کو یونیورسٹی کے معتبر فورم سے دور رکھا جا سکے۔ یہودی لابی کو اعتراض ہے کہ یہ طالبہ '' فلسطین کاز'' کی حمایت کرتی ہے۔

اکیس سالہ سعدیہ سیف الدین کیلیفورنیا یونیورسٹی کے 26 رکنی بورڈ کی پہلی مسلمان سٹوڈنٹ رکن ہو گی۔ وہ ایک سال کی مدت کے لیے اس منصب پر فائز رہیں گی۔ یہودی گروپ بشمول سائمن ویسنتھال سنٹر نے اس مسلمان طالبہ کی بورڈ کے لیے نامزدگی کی سخت مخالفت کی ، اس کے باوجود یونیورسٹی بورڈ کے 26 ریجنٹس میں سے 25 نے طالبہ کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دے کر اس کے رکن بننے کی حمایت کی ہے۔

یہودی مرکز نے مسلمان طالبہ پر اعتراض کیا ہے کہ سعدیہ نے اسرائیلی فوج ، کاروباری کمپنیوں اور یونیورسٹی فنڈزسے متعلقہ معاملات کو بے نقاب کیا تھا۔ دوسری جانب سعدیہ سیف الدین کے بارے میں یہ عمومی رائے ہے کہ وہ یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کی بہبود کے لیے مذہبی اور نسلی امتیاز سے بالا ترہو کر سرگرم رہتی ہے۔ لیکن یہودی لابی کا موقف ہے کہ کسی بھی مسلمان کو یونیورسٹی بورڈ کا رکن بنا لیں، سعدیہ کو نہ بنائیں۔

سکارف اوڑھنے والی سعدیہ سیف الدین نے اپنے حق میں آنے والے 25 ووٹوں اور اپنی نامزدگی پر کہا'' میں اس پوزیشن کے لیے بہت پر جوش ہوں''۔