.

صحرائے سینا میں شدت پسندوں نے تین پولیس اہلکارہلاک کر دیے

مصری فوج کی دو بٹالینیں علاقے میں پہنچ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے علاقے سینا میں تشدد کی حالیہ لہر میں پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں نے تین مختلف واقعات میں مختلف جگہوں پر حملے کرکے تین پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

طبی اور سیکیورٹی عہدیداروں نے ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تین نامعلوم مسلح افراد نے شیخ زوید قصبے کے پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا اور فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔ ان اہلکاروں میں سے ایک اہلکار کچھ دیر بعد العریش ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اسی طرح ایک اور پولیس اہلکار العریش میں اپنے گھر کے باہر شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ رات گئے شدت پسندوں نے العریش ہی کے ایک اور پولیس سٹیشن پر حملہ کیا اور تھانے کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کو موت کے گھاٹ اتار دیا نیز پولیس کی گاڑی بھی ساتھ لے گئے۔

صحرائے سینا کے علاقے میں مصری فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے بعد سے مصری سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مصری فوج نے اسرائیل کی اجازت ملنے کے بعد اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کے لئے دو بٹالین تازہ دم فوج تعینات کردی ہے۔

1979 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے نتیجے میں مصر کو اس علاقے میں کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی کرنے کے لیے پہلے اسرائیل کی اجازت لینا ہوگی۔ مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے مذکورہ علاقے روزانہ کی بنیاد پر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔