.

سعودی عرب میں ایتھوپیائی خواتین کی بطور گھریلو خادمہ بھرتی پر پابندی

"ایتھوپیائی گھریلو خادماٶں کی آمد سے جرائم کی شرح میں اضافہ "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت لیبر وافرادی قوت نے گھریلو ملازمت کے لیے افریقی ملک ایتھوپیا کی خواتین کی بھرتی پرعارضی طور پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ پابندی ایتھوپیائی گھریلو خادماؤں کے مملکت میں جرائم کے ارتکاب کے بعد لگائی گئی ہے، جن میں بعض صورتوں میں مالکان کے بچوں کے قتل جیسے سنگین جرائم بھی کئے گئے ہیں.

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی رپورٹ میں وزارت لیبرو افرادی قوت کی جانب سے جاری ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ "وزارت داخلہ سے مشاورت کے بعد ایتھوپیا سے گھریلو کام کاج کی غرض سے آنے والی خواتین کی بھرتی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے حکومت بچوں کے قتل سمیت دیگر جرائم میں ملوث گھریلو خادماؤں کے خلاف آنے والی شکایات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان تحقیقات کے نتائج آنے کے بعد ہی ایتھوپیائی خواتین کی بھرتی پر پابندی ختم یا برقرار رکھنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں سعودی عرب کی "نیشنل ری کروٹمنٹ کمیٹی" کے چیئرمین ڈاکٹرسعد البداح نے "العربیہ" کو بتایا کہ انہوں نے بھی حکومت سے ایتھوپیائی خواتین کی گھریلو خادماٶں کے طور پر بھرتی پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر البداح کا کہنا تھا کہ جب سے ایتھوپیائی خواتین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ہے سعودی عرب میں بچوں کے قتل اور دیگرسماجی جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے غیرملکی شہریوں بالخصوص ملازمت کی غرض سے آنےوالی خواتین کے ذہنی اورنفسیاتی معائنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔ ڈاکٹر البداح نے کہا کہ نفسیاتی اور ذہنی امراض کا شکار شخص قتل سمیت کسی بھی سنگین جرم کا ارتکاب کرسکتا ہے۔