.

شام: شمالی علاقے میں کردوں اور جہادیوں کے درمیان جھڑپیں، 29 افراد ہلاک

کرد اکثریتی صوبے میں جہادی گروپوں کی کارروائیوں کے بعد تشدد کی نئی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی علاقے میں کرد جنگجوؤں اور جہادیوں کے درمیان گذشتہ دوروز سے جاری جھڑپوں میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''تیل کی دولت سے مالا مال شمالی علاقے الحکسہ میں منگل سے جاری لڑائی میں النصرۃ محاذ کے انیس جنگجو جبکہ دس کرد مارے گئے ہیں''۔

گذشتہ روز آبزرویٹری نے اطلاع دی تھی کہ شامی کرد جنگجوؤں نے النصرۃ محاذ اور القاعدہ سے وابستہ ریاست اسلامی عراق کے جنگجوؤں کو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے راس العین اور اس کے ساتھ ایک سرحدی گذرگاہ سے نکال باہر کیا ہے۔

اس تنظیم کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''کرد جنگجوؤں اور جہادیوں کے درمیان لڑائی النصرۃ محاذ کے کرد جنگجو خواتین کے ایک قافلے پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی''۔اب جہادیوں نے راس العین سے بے دخل ہونے کے بعد راکٹ فائر کرنا شروع کردیے ہیں۔ انھوں نے سڑکوں پر ناکے لگانے والے کرد جنگجوؤں پر حملے کیے ہیں اور ان کے درمیان الحکسہ کے مشرق میں واقع دیہات طلوع اور کرحوک میں جھڑپیں جاری ہیں۔

راس العین سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جہادی گروپوں کے ارکان مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اسلامی قوانین کے نفاذ میں سخت گیری اور انتہاپسندی سے کام لے رہے ہیں۔

درایں اثناء شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں کرد جنگجوؤں نے جہادیوں کے مقابلے میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے سویدیہ کے ایک حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ کردوں نے صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سوا دوسال سے جاری خانہ جنگی کے دوران غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے اور بعض کرد شامی صدر کی حمایت کرتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے اپنے علاقے سے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کو خاص طور پر باہر رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اب ان کی جہادی گروپوں سے لڑائی ہورہی ہے۔

صدر اسد کے خلاف مسلح عوامی مزاحمتی تحریک کی حمایت نہ کرنے پر کردوں کو بعض باغی گروپوں اور جہادیوں کے غیظ وغضب کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے اور وہ اپنی روشن خیالی اور اسلام کی آزادخیال تعبیر کی وجہ سے النصرۃ محاذ اور ریاست اسلامی عراق جیسے جہادی گروپوں کی کارروائیوں کا ہدف بن ہوئے ہیں۔