.

سعودی ائر لائن میں اسرائیلوں کے سفر پر پابندی، امریکی تنقید مسترد

"فیصلہ ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی ضابطوں کی روشنی میں کیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سرکاری فضائی کمپنی نے اسرائیل نواز امریکی دھمکی مسترد کر دی ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ "اگر سعودی ائر لائن نے اسرائیلی مسافروں کی اپنے طیاروں پر سفر کی پابندی ختم نہ کی تو ریاض کے ملکیتی جہازوں کو امریکی ہوائی اڈے استعمال کرنے سے روکنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔"

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی شہر نیوریاک کے اٹارنی جنرل بیل ڈوبلاسیو نے اپنے ایک دھمکی آمیز بیان میں سعودی عرب کی فضائی کمپنی کی پالیسی کو ہدف تنیقد بناتےہوئے اسے "نسلی امتیاز" کا مظہر قرار دیا تھا۔ مسٹر ڈوبلاسو کا کہنا تھا کہ "السعودیہ" کے ہوائی جہازوں پر اسرائیلیوں کے سفر پر پابندی 'تعصب' کی بدترین مثال ہے اور سعودی عرب کو اپنی 'نسل پرست' پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

سعودی عرب کی سرکاری فضائی کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر خالد الملحم نے ایک بیان میں امریکی اٹارنی جنرل کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ائر لائن میں اسرئیلیوں پر عاید سفری پابندی کا فیصلہ ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لیے ضروری ہے۔ یہ فیصلہ غیرملکی شہریوں کے مملکت میں داخلے سے متعلق عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی معیار کےاصولوں کو مد نظر رکھ کرکیا گیا ہے۔

خالد الملحم کے بقول ہماری کمپنی صرف ان ملکوں کے شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے کی پابند ہے، جنہیں سعودی عرب سفارتی تعلقات کے بعد تسلیم کرتا ہے۔ اسرائیل چونکہ ریاض کے تسلیم کردہ ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں، اس لیے ہم اپنی سرکاری فضائی کمپنی میں اسرائیلیوں کو سفری سہولت دینے کے پابند نہیں۔

قبل ازیں امریکی شہرنیویارک کے اٹارنی جنرل نے "ٹائم اسکوائر" میں ایک نیوز کانفرنس کو بتاتا کہ وہ "السعودیہ" کے ہوائی جہازوں پر اسرائیلی شہریوں کے سفر پر پابندی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی اس پالیسی کو"نسلی تعصب" قرار دے کر اس پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی فضائی کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھا ہے جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ "السعودیہ" کے پاس امریکا سفر کے حوالے سے صرف دو راستے ہیں پہلا راستہ یہ ہے کہ ریاں مسافروں سے نسل امتیاز پر مبنی پالیسی ترک کر دے دوسری صورت میں وہ اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔