صدر اوباما کو شام پر زمینی حملے سمیت فوجی آپشنز کے بارے میں بریفنگ

شام میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور اسدحکومت کی اہم تنصیبات پر میزائل حملوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکا کے چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈمپسی نے صدر براک اوباما کو خانہ جنگی کا شکار شام میں فوجی مداخلت سے متعلق مختلف آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔

جنرل ڈمپسی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ شام کے لیے جن فوجی آپشنز پرغور کیا جارہا ہے، ان میں نوفلائی زونز کا قیام، زمینی چڑھائی، القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملے اور شامی رجیم کی کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں سمیت اہم تنصیبات اور انفرااسٹرکچر پر میزائل حملے شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شامی صدر بشارالاسد مزید ایک سال تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں کیونکہ اس وقت حالات ان کے موافق ہوگئے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کے سربراہ کے بہ قول صدر براک اوباما نے ان سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا امریکا شام میں مداخلت کرسکتا ہے یا کیا اس کو مداخلت کرنی چاہیے۔ جنرل ڈمپسی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ہماری حکومتی ایجنسیوں میں غور کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں