.

صدر اوباما کو شام پر زمینی حملے سمیت فوجی آپشنز کے بارے میں بریفنگ

شام میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور اسدحکومت کی اہم تنصیبات پر میزائل حملوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈمپسی نے صدر براک اوباما کو خانہ جنگی کا شکار شام میں فوجی مداخلت سے متعلق مختلف آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔

جنرل ڈمپسی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ شام کے لیے جن فوجی آپشنز پرغور کیا جارہا ہے، ان میں نوفلائی زونز کا قیام، زمینی چڑھائی، القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملے اور شامی رجیم کی کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں سمیت اہم تنصیبات اور انفرااسٹرکچر پر میزائل حملے شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شامی صدر بشارالاسد مزید ایک سال تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں کیونکہ اس وقت حالات ان کے موافق ہوگئے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کے سربراہ کے بہ قول صدر براک اوباما نے ان سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا امریکا شام میں مداخلت کرسکتا ہے یا کیا اس کو مداخلت کرنی چاہیے۔ جنرل ڈمپسی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ہماری حکومتی ایجنسیوں میں غور کیا جا رہا ہے۔