.

قاہرہ: احتجاجی مظاہرے، ری پبلکن گارڈ ہاؤس تک رسائی مسدود

وزارت دفاع کا مظاہرین کے تشدد سے نمٹنے کے لیے فوج سے تعاون کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے دارالحکومت قاہرہ میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ری پبلکن گارڈ ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کے لیے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔

قاہرہ سے العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ فوج نے ری پبلکن گارڈ ہاؤس کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بلاک کردیا ہے۔ اس سے پہلے مصری ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ ڈاکٹر مرسی کے حامی ری پبلکن ہاؤس کی جانب مارچ کر رہے تھے جبکہ فوج کی ایک خاتون ترجمان نے انھیں تشدد پر خبردار کیا تھا۔

مصر کی وزارت داخلہ نے بھی اس دوران ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی جانب سے کسی قسم کے تشدد سے نمٹنے کے لیے فوج کے ساتھ تعاون کرے گی۔

قاہرہ کی اٹھارہ مساجد سے نماز جمعہ کے بعد اخوان المسلمون کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے قاہرہ میں متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔

اخوان اور اس کی حامی دوسری جماعتوں کے کارکنان منتخب صدر کی بحالی اور فوجی اقدام کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اخوان کے ایک سرکردہ لیڈر فرید اسماعیل کا کہنا ہے کہ ''آج کا دن مصری انقلاب کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے''۔