.

مسجد کے باہر دہشت گردی کی کارروائیوں کے شُبے میں دو یوکرینی نوجوان گرفتار

برطانوی پولیس کو مسجد کے باہر دھماکے کے ثبوت مل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے تین ہفتے قبل ایک مسجد کے باہر دھماکے کے ثبوت برآمد ہونے کی اطلاع دی ہے۔

وسطی برطانیہ میں واقع وولورہامپٹن کی مرکزی مسجد کو جمعرات کی شب دویوکرینی باشندوں کی گرفتاری کے بعد خالی کرالیا گیا تھا۔ان دونوں افراد پر برطانیہ کے اس علاقے میں دو مسجد میں دھماکوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد کا ملبہ ایک گول چکر سے ملا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس کو 28 جون کو اڑایا گیا تھا۔ پولیس نے ملبے کو محفوظ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی مزید فورینسک تحقیقات پورا دن جاری رہیں گی۔

دھماکا خیز مواد کا یہ ملبہ بائیس اور پچیس سال کی عمر کے دویوکرینی نوجوانوں کی جمعرات کو گرفتاری کے بعد ملا ہے۔ان دونوں سے برطانیہ کے دو وسطی قصبوں ٹپٹن اور وال سال میں دو مساجد کے نزدیک دھماکوں کے سلسلہ میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔

ان دونوں کو دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری ،اس کی شہ دینے اور اس میں ملوث ہونے کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ چلایا جائے گا۔

انسداد دہشت گردی پولیس کے اسسٹینٹ چیف کانسٹیبل مارکوس بیل کا کہنا ہے کہ ''ہم وولور ہامپٹن کی کمیونٹیوں پر دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کی خبر سے پڑنے والے اثرات کو تسلیم کرتے ہیں۔ہم اپنی تحقیقات کی تکمیل کے لیے سخت محنت کررہے ہیں تاکہ یہ علاقہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکے''۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں مئی میں لندن کی ایک شاہراہ پر ایک برطانوی فوجی کے بہیمانہ قتل کے واقعہ کے بعد سے مسلمانوں اور ان کے عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور انتہا پسند مسیحی انھیں اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔