.

مصر: عبوری صدر کے انتباہ کے باوجود اسلامی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے

منتخب صدر کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مسلح افواج کے ہاتھوں برطرف منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حامی اسلامی جماعتوں اور دوسرے جمہوریت پسندوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ نماز جمعہ کے بعد دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔

قاہرہ میں ملک کی سب سے منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے کارکنان نے اٹھارہ مساجد کے باہر سے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ مظاہرین ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اخوان کے ہزاروں کارکنان نے قاہرہ کے علاقے نصر سٹی میں جامع مسجد رابعہ العدویہ کے سامنے واقع چوک میں تین جولائی کو صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ وہ منتخب صدر کی بحالی اور تین جولائی کے فوجی اقدام کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول تک اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے۔ آج انھوں نےاس مسجد کے علاوہ جامعہ قاہرہ کے باہر سے بھی بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔

اخوان کے ایک سرکردہ لیڈر فرید اسماعیل کا کہنا ہے کہ ''آج کا دن مصری انقلاب کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے''۔ قبل ازیں اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع نے ایک بیان میں فوج سے مطالبہ کیا کہ ''وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے، راستی کی جانب لوٹ جائے اور عوام کی منشاء کا احترام کرے''۔

فوج کے مقرر کردہ عبوری صدر عدلی منصور نے جمعرات کی شب قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ''مصر اس وقت تاریخ کے فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے، ایسے میں کچھ لوگ ملک کو نامعلوم مقام کی جانب کھینچنے اور انارکی پھیلانا چاہتے ہیں''۔ انھوں نے ملک کو ان لوگوں سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا جو ان کے بہ قول ''مصر کو افراتفری کا شکار کرنا چاہتے ہیں''۔

انھوں نے اس تقریر میں کھلے اور دبے لفظوں میں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے جبکہ فوج نے بھی مظاہرین کو تشدد پر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔

تاہم عدلی منصور نے اخوان المسلمون کو شاخِ زیتون کی پیش کش کی ہے اور کہا کہ ''انصاف اور مصالحت کے فریم ورک کی تمام لوگوں کو پیش کش کی جاتی ہے'' مگر اخوان المسلمون ان کی اس پیش کش کو مسترد کرچکی ہے اور وہ ان کی قیادت میں عبوری حکومت کو سرے سے قانونی تسلیم کرنے ہی کو تیار نہیں۔

مصری فوج نے جمعرات کو فیس بُک پر جاری کردہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہروں کے دوران تشدد کے کسی بھی واقعہ سے فیصلہ کن انداز میں نمٹے گی۔ ''مسلح افواج پُرامن انداز میں اظہار رائے سے انحراف اور تشدد پر انتباہ کرتی ہیں''۔

بیان میں سخت دھمکی آمیز الفاظ میں مظاہرین سے کہا گیا کہ ''جمعہ کو مظاہروں کے دوران جو بھی تشدد کو روبہ عمل لانے کی کوشش کرے گا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا موجب ہوگا اور اس کے ساتھ قانونی حدود میں فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا''۔

برطرف صدر مرسی کے مخالفین قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں اور صدارتی محل کے باہر اپنی الگ ریلیاں نکال رہے ہیں جس کے پیش نظر ان دونوں متحارب دھڑوں کے درمیان دھینگا مشتی ہونے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔

لیکن واضح رہے کہ ڈاکٹر مرسی کے مخالفین کی ریلیوں کے شرکاء کی تعداد ان کے حامیوں کی تعداد کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے حالانکہ انھوں نے منتخب صدر کو ہٹانے کے لیے نکالی گئی ریلیوں میں لاکھوں افراد کی شرکت کے دعوے کیے تھے اور میڈیا خاص طور پر مغربی ذرائع ابلاغ ان کے ان دعووں کو من وعن تسلیم کرتے رہے تھے۔