.

فیس بُک پر رمضان کی توہین، دو ملائشین عدالت پہنچ گئے

دونوں ملزموں پر سؤر کا گوشت کھانے اور تصویر فیس بک پر ڈالنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا میں پراسیکیوٹرز نے دو شہریوں کو سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر رمضان المبارک کی توہین پر مبنی تصویر پوسٹ کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔اگر ان پرعاید کردہ الزامات ثابت ہوگئے تو انھیں آٹھ سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دونوں ملزم نسلی طور پر چینی غیر مسلم ہیں۔ان کے نام علوین تان اور ویوین لی بتائے گَئے ہیں۔ان کی عمریں بیس سال کے پیٹے میں ہیں۔انھوں نے اسی ماہ سؤر کا گوشت کھاتے ہوئے فیس بُک پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جبکہ وہ اس دوران مسلمانوں کو ان کا ماہ مقدس شروع ہونے پر نیک تمناؤں کےپیغامات بھیج رہے تھے۔

اسلام میں سؤر کا گوشت حرام ہے اور تان اور لی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس تصویر کا مقصد مزاح تھا۔انھیں جمعرات کو کوالالمپور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں دونوں نے قصوروار نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ عدالت نے انھیں ضمانت پر آزاد رہنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

ملائشیا کے اٹارنی جنرل عبدالغنی پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ حکام ان دونوں کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایسا مواد اپ لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے لوگوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ سکتی ہے۔

اب ان دونوں کے خلاف چوبیس اگست سے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔ واضح رہے کہ ملائشین قانون میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں کمزور باتوں کو اچھالنے کو بھی بغاوت قرار دیا گیا ہے۔