.

مصر کی سلامتی کی جنگ کو انجام تک پہنچائیں گے: عدلی منصور

عوام پرامن رہیں، فوج اپنا کام کرے: محمد بدیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک کو ان لوگوں سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو ان کے بہ قول ''مصر کو افراتفری کا شکار کرنا چاہتے ہیں''۔

فوج کے مقرر کردہ عبوری صدر نے جمعرات کی شب قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ ''مصر اس وقت تاریخ کے فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے،ایسے میں کچھ لوگ ملک کو نامعلوم مقام کی جانب کھینچنے اور انارکی پھیلانا چاہتے ہیں''۔

عدلی منصور نے کہا کہ ''یہ لوگ اس عرصے کو تشدد کے تعارف کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم زندگیوں کو بچانے کے تصور کے تحت کام کررہے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہیں''۔

عبوری صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ''ان کی حکومت نے ملک کی سکیورٹی اور استحکام کا عزم کررکھا ہے۔عدلی منصور نے یہ تقریر برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے دارالحکومت قاہرہ میں آج جمعہ کو ایک بڑی ریلی کے انعقاد سے چند گھنٹے قبل کی ہے۔انھوں نے اس تقریر میں کھلے اور دبے لفظوں میں منتخب جمہوری صدر کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے جبکہ فوج نے بھی مظاہرین کو تشدد پر خبردار کیا ہے۔

درایں اثناء اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے، راستی کی جانب لوٹ جائے اور عوام کی منشاء کا احترام کرے''۔

آج مصر میں دس رمضان المبارک کے موقع پر اخوان المسلمون اور دوسری جماعتوں کے کارکنان منتخب صدر کی برطرفی کے خلاف ریلیاں نکال رہے ہیں۔ مصر کی مسلح افواج نے 1973ء کی جنگ میں آج ہی کے دن نہر سویز عبوری کی تھی۔

محمد بدیع نے اس موقع پر مسلح افواج کی کامیابیوں کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے اور فوج کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ ان کا حقیقی مشن مصر کا دفاع کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم فوجی بغاوت کے لیڈروں سے کہیں گے کہ وہ راستی کی جانب لوٹ جائیں اور غلط کو چھوڑ دیں''۔

اخوان کے مرشد عام کا یہ پیغام دارالحکومت قاہرہ میں سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کے احتجاجی دھرنے میں پڑھ کر سنایا گیا ہے۔اس موقع پر وہاں موجود لوگوں نے فوج کے حق میں سخت نعرے بازی کی۔

واضح رہے کہ مصر کے پراسیکیوٹرز نے محمد بدیع اور اخوان کے دیگر دس بارہ سرکردہ لیڈروں کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔تاہم انھوں نے اپنے بیان میں مظاہرین پر زوردیا ہے کہ وہ پُرامن رہیں اور تشدد سے گریز کریں۔