برطرف صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان المنصورہ میں جھڑپیں

فوج کی مداخلت سے پہلے 5 افراد ہلاک، 11 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کے برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کا قاہرہ میں دو مقامات پر ہفتے کے روز بھی دھرنا جاری ہے۔ اس سے قبل مرسی نواز مظاہرین نے ملک کے مختلف حصوں میں جمعہ کے روز عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کئے جن میں بعض مقامات پر مرسی مخالفین سے جھڑپوں میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ گیارہ دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

محمد مرسی کے حامی قاہرہ کے شمال مشرق علاقے رابعہ العدویہ اور قاہرہ کے قریبی ضلع الجیزہ کے النہضہ سکوائر میں تین جولائی سے احتجاجی دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میڈیکل ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کو علی الصباح محمد مرسی اور ان کے مخالفین کے درمیان الدقھلیہ ضلع کے علاقے المنصورہ میں ہونے والی جھڑپوں میں تین افراد جاں بحق جبکہ سات دوسرے زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والی تینوں خواتین تھیں، جنہیں نامعلوم افراد کی جانب سے کئے جانے والے براہ راست بلٹ فائر لگے۔

خبر رساں ادارے'رائیٹرز' نے الدقھلیہ گورنیٹ کے ڈائریکٹر جنرل ہسپتال ھشام مسعود کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی تینوں خواتین المنصورہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والی دو خواتین کو گولیوں کے زخم آئے جبکہ جاں بحق ہونے والی تیسری خاتون کے جسم میں ظاہری ضرب کا نشان موجود نہیں تھا۔

مصری اخبار "الیوم السابع" نے بتایا کہ زخمیوں کو المنصورہ بین الاقوامی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ سینڑل فورس کے اہلکاروں نے جھڑپوں کی جگہ پہنچ کر فوری طور پر صورتحال قابو میں کی۔ انہوں نے مختلف عمارتوں میں محصور اخوان المسلمون کے کارکنوں کو بھی باہر نکلوایا جو کہ مخالفین کے حملے کی وجہ سے جان بچانے کے لئے قریبی عمارتوں میں گھس گئے تھے۔

اسکندریہ شہر کے سیدی جابر سکوائر میں مسلح فوج کے اہلکار اخوان المسلمون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ختم کرانے پہنچ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں