.

انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کےخاتمے کیلیے "حلال گوگلنگ" شروع

نئے سرچ انجن کی صورت میں والدین کو بچوں کی تربیت میں مددگار مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی اور انسانی اقدار کے منافی مواد سے انسانی معاشروں کو محفوظ رکھنے کےلیے ایک نئے آن لائن سرچ انجن گوگل حلال کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے۔ جس کے لیے ایسے مواد کو جزوی طور پر کامیابی کے ساتھ بلاک کرنا ممکن ہو گیا ہے جو انسانی روایات، سماجی اقدار اور مثبت اخلاقی رویوں کے ساتھ ساتھ مذہبی حوالے سے بھی ناپسندیدہ اور حرام سمجھا جاتا ہے۔

نئے متعارف کرائے گئے سرچ انجن حلال گوگلنگ "Halalgooling" نے اس سلسلے میں خصوصی طور پر فلٹرز کا اہتمام کیا ہے جو ان تمام الفاظ ، موضوعات اور سرگرمیوں کو بلاک کرنے میں مدد دیتے ہیں جو پچھلی تقریباً ایک دہائی سے مشرقی اور مغربی دنیا کی تقسیم سے بالاتر ہو کر اخلاقی اور سماجی فساد اور فسک کا ذریعہ بن رہے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف خاندانی نظام ، رشتوں کے تقدس پامال ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے بلکہ مجموعی طور پر انسانی معاشروں کی ورک فورس کا نظام بھی عدم توازن کا شکار ہونے کے عوامل بروئے کار ہو گئے تھے۔

بہت سارے ٹیوٹر یوزرز نے اس نئے سرچ انجن حلال گوگل کو تجرباتی بنیادوں پر آزمایا اور اسے ایک ایسی سینسرشپ کی قسم قرار دیا جو بچوں کی تعلیم اور تربیت کے حوالے سے والدین اور اساتذہ کے لیے بطور خاص مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تجرباتی آزمائش کرنے والوں کے تجربے میں یہ بات بھی آئی کہ اس نئے حلال گوگل سرچ انجن میں ایسے کچھ کلیدی الفاظ ترتیب دیے ہیں جو غیر اخلاقی اور سماجی اقدار کے منافی اطلاعات کو بلاک کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ حلال گوگل نے انہیں حرام کیورڈز کا نام دیا ہے۔

رواں کے آغاز میں شروع کیے گئے سرچ انجن کے صارفین نے پلے بوائے اور اس طرح کے بعض دیگر الفاظ لکھ کر تلاش کے نتائج دیکھنے کی کوشش میں نتیجہ سامنے نہیں آیا۔اسی طرح کا لفظ لکھ کر تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے اس لفظ کے لغوی معنی اور اصطلاحت کی فہرست کھول دی اور بعض ایسی ویب سائٹس کی فہرست بھی متعارف کرا دی جس میں پورنوگرافی کے خلاف مذہبی تصورات کو اجاگر کیا گیا۔

حلال گوگلینگ سرچ انجن تیار کرنے والوں نے اس چیز کا بھی اہتمام کیا ہے کہ ممنوعہ سائٹس اور بلیک لسٹ کی گئی سائٹس اس سرچ انجن کے ذریعے تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، تاہم سرچ انجن کی انتظامیہ نے یہ تسلیم کیا ہے ابھی بھی غیر اخلاقی مواد کی مکمل طور تلاش کو ناممکن نہیں بنایا جا سکا، البتہ اس کے لیے کوششیں جاری ہیں