.

دنیا کی سب سے بڑی پرتعیش کشتی تیار، مالک کی شناخت سربستہ راز

'عزام' نامی سپر یاٹ، روسی شہری کی 'ایکلیپس' سے 55 فٹ لمبی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری سیر کے لئے ابتک بننے والی دنیا کی سب سے بڑی کشتی 'عزام' کے ارب پتی مالک کا نام سربستہ راز ہے۔ 'عزام' کے متوقع مالک کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ خوش قسمت یقینا دنیا کے امیر ترین عربوں میں سے ہی کوئی شخصیت ہو سکتی ہے۔

بعض اطلاعات میں دعوی کیا گیا ہے کہ دیو ہیکل سمندری سیر گاہی کشتی متحدہ عرب امارات میں تیل کے کنووں کے مالک ایک متمول عرب شخصیت کی ملکیت ہے جبکہ دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی اس کشتی کے مفتخر مالک کی نشاندہی سعودی عرب کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ کے طور پر کی گئی ہے۔ تمام قیاس آرائیوں کے باوجود 'عزام' کشی کے مالک کا نام نجانے کیوں ابتک صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔

'عزام' کشتی کی لمبائی پانچ سو نوے فٹ بتائی جاتی ہے، جو اس سے قبل دنیا کی سب سے بڑی قرار دی جانے والے کشتی 'ایکلیپس' سے پچپن فٹ زیادہ ہے۔ 'ایکلیپس' کے مالک روس سے تعلق رکھنے والے ارب پتی رومن ابرامووچ ہیں۔ یو اے ای سے شائع ہونے والے اخبار "ٹاپ نیوز" کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی کشتی جرمنی کے شہر بریمن کے لورسن شپ یارڈ پر لنگر انداز ہے۔

دیو ہیکل "عزام' سپر یاٹ کا حجم لمبائی میں دو فٹبال گراونڈز کے برابر ہے۔ 'ایگزامینر' کی رپورٹ کے مطابق کشتی میں میزائل حملے سے بچاو کا نظام اور دو ہیلی پیڈ اس کے نمایاں خدوخال ہیں۔ چار سال کی مدت میں تیار ہونے والی اس منفرد کشتی پر مبینہ طور پر چھ سو ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔

"ایگزامینر" کے مطابق اس 35 میل فی گھنٹہ کی مسافت سے سفر کرنے والی اس کشتی کی جملہ خوبیوں کا انکشاف نہیں ہوا۔ کشتی میں بنائے گئے کمروں اور ماسٹر بیڈ روم کو بلٹ پروف شیشوں سے محفوظ بنایا گیا ہے۔ عجوبہ کشتی میں الگ ہونے والی منی آبدوز بھی موجود ہے جسے سمندر کی سیر کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس شاہکار کشتی کے مسافروں کا دل لبہانے کے لئے اس میں مووی ٹھیٹر، ریستوران اور ڈسکو روم بھی بنائے گئے ہیں۔