.

زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرنا شامی اپوزیشن کا اولین ہدف قرار

اپوزیشن کے سربراہ کی سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی افواج کے خلاف 2011ء سے مزاحمت کرنے والی اپوزیشن کے نو منتخب رہنما احمد آسی جربا نے اسدی افواج سے نجات کے لیے حزب اختلاف کے کثیر الجماعتی اتحاد کی ترجیح اول زیادہ سے زیادہ اسلحہ محفوظ کرنے کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ ہدف جلد سے جلد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

شامی متحدہ اپوزیش کے سربراہ ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات میں شام کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا ''میں نے اس مقصد کے لیے شامی عوام کی امداد یقینی بنانے ایک منصوبہ کار بنا لیا ہے۔''

احمد جربا نے نے شامی عوام کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ''ہمیں ایسے گروہوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جو شامی عوام کے مکمل خاتمے کی جنگ شروع کیے ہوئے ہیں۔'' شامی اپوزیشن کے 6 جولائی کو منتخب ہونے والے نئے رہنما احمد الجربا غیر معمولی طور پر سعودی عرب کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے بار بار یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ شامی باغیوں کو اسلحہ دیا جائے۔ وہ اس سے پہلے باغیوں کے لیے حصول اسلحہ کے نگران تھے اور ان کا اس شبہے کہ ''یہ اسلحہ اسلام پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے'' میں مبتلا مغربی ممالک سے باصرار مطالبہ تھا باغیوں کو اسلحہ دیا جائے۔ اس کے باوجود کہ جربا کا یہ کہنا ہے کہ "اپوزیشن مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے تاکہ انقلاب کے ذریعے پر امن انتقال اقتدار ہو۔ تاہم اپوزیشن کا بشار الاسد کو اقتدار میں رہنا قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔