افغان پارلیمان نے وزیر داخلہ کو برطرف کر دیا

غلام مجتبیٰ جنگ زدہ ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال کے ذمے دار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افغانستان کی پارلیمان نے وزیرداخلہ غلام مجبتیٰ پٹانگ کو مواخذے کی تحریک پر رائے شماری کے ذریعے برطرف کردیا ہے۔

پارلیمان نے غلام مجتبیٰ پٹانگ کو کابل سے قندھار تک مرکزی شاہراہ پر طالبان مزاحمت کاروں کے حملوں سمیت ملک بھر میں امن وامان کی خراب صورت حال کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

پارلیمان میں سوموار کو مواخذے کی قرارداد پر رائے شماری کے بعد اسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی نے نتائج کا اعلان کیا اور بتایا کہ''وزیرداخلہ کے خلاف ایک سو چھتیس ارکان نے ووٹ ڈالے ہیں۔وہ وزارت کے لیے نااہل ہوگئے ہیں اور میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کے صدر سے کہوں گا کہ وہ اس عہدے کے لیے کسی اور موزوں شخص کے نام کا اعلان کریں''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا صدر حامد کرزئی پارلیمان کی منظور کردہ قرار داد کے تحت وزیرداخلہ کو برطرف کردیں گے یا نہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی انھوں نے گذشتہ سال اگست میں اپنے وزراء کے خلاف پارلیمان میں ووٹ کے باوجود انھیں ان کے عہدوں پر برقرار رکھا تھا۔

اس وقت افغانستان سے امریکا کی قیادت میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی فوجوں کا انخلاء جاری ہے۔اس صورت حال میں صدر حامد کرزئی کی انتظامیہ ملک میں استحکام کے لیے کوشاں ہے اور کسی اتھل پتھل کی صورت میں ان کی حکومت مزید کمزور ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں