تعمیرو ترقی کے پچیس سال: جدہ سعودی عرب کا سنگاپور بن گیا

دونوں شہروں کے ماحولیاتی مسائل میں مُماثلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے مغرب میں واقع ساحلی شہر جدہ ایک طرف مسلسل سیلاب کی تباہ کاریوں اور سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا ہے تو دوسری طرف شہرکی تعمیر وترقی کی رفتار بھی بے مثل ہے۔ سیلاب نے شہر کے ماحول اور لوگوں کے معمولات زندگی پرمنفی اثرات ضرور مرتب کیے ہیں لیکن حکومت کے پچیس سالہ ترقیاتی منصوبے کی تکمیل کے بعد "جدہ" جنوب مشرقی ایشیائی ملک سنگاپورکا منظرپیش کرنے لگا ہے۔

معاصرعزیز اخبار"الحیات" نے جدہ کی تیزرفتار تعمیر ترقی کا سنگاپورکی ترقی کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا ہے۔ شہرکوترقی کے بام عروج تک پہنچانا اتنا سہل نہیں تھا اور نہ ہی پلک جھپکتے ایسا ممکن تھا۔ اس کے لیے سعودی عرب کی حکومت نے پچیس سال قبل "جدہ اسٹریٹجیک پلان" ترتیب دیا اور شب وروز کی محنت شاقہ کے بعد آج اس کی ترقی کو دیکھ کر بڑے فخرکےساتھ اسے 'سعودی عرب کا سنگاپور' قرار دیا جانے لگا ہے۔

جدہ کی تعمیر وترقی کا یہ سفر کئی بڑی فرموں کی مسلسل محنت اور جانفشانی کا ثمرہے۔ جدہ کے پراجیکٹ ڈائریکٹرعامرجبارین نے بتایا کہ جدہ اورسنگاپورکے درمیان بہت سی مشترکات پائی جاتی ہیں۔ دونوں شہروں کے موسمی حالات، زمین اورماحولیاتی مسائل کافی حد تک ایک جیسے ہیں۔ ہم نے جدہ کی ترقی کا سفرآج سے 25 برس قبل شروع کیا۔ جدہ کو سنگاپور بنانے کی راہ میں حائل مشکلات کا اندازہ ہمیں اس وقت بھی تھا جب منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا لیکن ہم نے سنگاپور اور اس کی تیز رفتارترقی پر نگاہ دوڑائی تو ہمیں اس میں مسلسل محنت، لگن اور جذبہ تعمیر نے بہت متاثر کیا۔ سنگاپورقدرتی وسائل سے محروم ایک تنگ جزیرہ نما شہرہے جبکہ جدہ بعض قدرتی وسائل خصوصا تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ آغاز میں ہمارے سامنے مشکلات کا ایک سمندرحائل تھا لیکن مسلسل محنت نے آج ہمیں اس مقام پرلا کھڑا کیا ہے، جس کا خواب عرصہ پہلے ہم نے دیکھا تھا"۔

اخبار"الحیاۃ" سے بات کرتے ہوئے ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ڈائریکٹرڈاکٹر جبارین نے بتایا کہ لوگوں کی غیر منظم سرگرمیوں نے نہ صرف شہر کے حسن کو گہنا دیا بلکہ تعمیرو ترقی کی راہ میں بھی مشکلات کھڑی کیں۔ غیرمنظم تعمیرات، صنعتی سرگرمیاں اور بے ہنگم ٹریفک وہ وجووہات ہیں جنہوں نے جدہ کے پانی، ہوا اورمٹی سب کو بری طرح متاثرکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی جدہ کواس کے ماحولیاتی مسائل سے نکالنے کے لیے ایک جامع منصوبے پرکام کر رہی ہے۔ حکومت بھی "عروس بحراحمر" کوماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے سالانہ خصوصی بجٹ فراہم کرتی ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹرجبارین نے بتایا کہ جدہ کے لیے مختص کردہ بجٹ کودوحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ترقیاتی میزانیے کا ایک حصہ شہرمیں صحت اورعلاج معالجے پرصرف کیا جاتا ہے جبکہ بقیہ بجٹ سے پانی، ہوا اورماحول کوآلودگی سے پاک کرنے پرخرچ کیا جاتا ہے۔

مسٹر جبارین نے کہا کہ جدہ کوماحولیاتی آلودگی سے پاک شہر بنانے کے لیے محض ترقیاتی منصوبوں اورحکومتوں کے فنڈزکافی نہیں بلکہ اس کے لیے لوگوں کے طرز فکراوربودو باش میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ جب تک ماحول کے بنیادی اجزاء، پانی، ہوا اور مٹی کو صاف رکھنے کی لگن ہرشہری میں نہیں ہوگی جدہ کو ماڈل سٹی بنانے میں مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ ماحولیاتی صحت و صفائی صرف ایک انسانی ضرورت ہی نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات کا بھی تقاضا ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں