مرسی خاندان فوجی قیادت کے خلاف پھٹ پڑا، برطرف صدر کے اغوا کی مذمت

جنرل السیسی کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر قانونی اقدام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صر کے برطرف صدر محمد مرسی کا خاندان مسلح افواج کی قیادت کے خلاف پھٹ پڑا ہے اور انھوں نے ڈاکٹر مرسی کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے اسے اغوا قرار دیا ہے۔

تین جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے فوجی انقلاب کے بعد برطرف صدر کے خاندان کا یہ پہلا ردعمل ہے۔ڈاکٹر مرسی اپنی برطرفی کے بعد سے فوج کے زیر حراست ہیں اور ان کا اپنے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

ان کے بیٹے اسامہ مرسی نے سوموار کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''میرے والد کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے، وہ سیدھا سادہ اغوا کا جرم ہے۔میں قانونی طریقے سے ان تک رسائی کا کوئی راستہ تلاش نہیں کرسکتا ہوں''۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کے والد کی حراست دراصل عوامی منشاء اور پوری قوم کا اغوا ہے اور یہ لفظ کے کسی بھی مفہوم کی رو سے ایک اسکینڈل ہے''۔

اس موقع پر ڈاکٹر مرسی کی بیٹی شیما نے کہا کہ ''ہم جنرل عبدالفتاح السیسی اور ان کے ہم نوا گروپ کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی اقدامات کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ امریکا،یورپی یونین اور بعض دوسرے ممالک ڈاکٹر مرسی کی رہائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون نے مصر میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے حال ہی میں ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔اخوان اور دوسری جمہوریت پسند جماعتیں ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں اوروہ ان کی بحالی اور فوجی اقدام واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں