ایران سل کی حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ کی توہین پر معافی

خلیفۂ دوم کی توہین پر مبنی سوال پر وضاحتی بیان میں مسلمانوں سے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی دوسری بڑی موبائل فون کمپنی ایرانسل (ایران سیل) نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خلیفہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی توہین پر مسلمانوں سے معافی مانگ لی ہے۔

ایرانی ویب سائٹ ڈیلی بریف کی رپورٹ کے مطابق ایرانسل نے اپنے صارفین کو مسلمانوں کی دلآزاری پر مبنی ایک سوال بھیجا تھا۔ اس میں صارفین سے پوچھا گیا تھا کہ ''کس جج (قاضی) کو (اہل تشیع کے پہلے امام) امام علی رضی اللہ عنہ کے دور میں شیطان نے دھوکا دیا تھا؟''

اس کے دوجوابات دیے گئے تھے۔الف: قاضی شریح ،جو پہلی صدی ہجری میں کوفہ میں مشہور قاضی اور فقیہہ تھے۔ب۔مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔

ایران کے شہر زاہدان سے تعلق رکھنے والے اہل سنت کے ایک خطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی اور کہا کہ ایرانسل نے اسلام کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک کی توہین کی ہے۔

ڈیلی بریف کے مطابق زاہدان کے پبلک پراسیکیوٹر نے بھی ایرانسل کے خلاف فرد الزام عاید کی تھی۔اس پر موبائل فون کمپنی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ''وہ مسلمانوں کے اتحاد ،مذہبی ہم آہنگی اور تمام الہامی ادیان کا احترام کرتی ہے''۔

کوئز مقابلے کے منتظم گولڈن کی انسٹی ٹیوٹ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں وضاحت کی ہے کہ ''عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) اس دور میں زندہ نہیں تھے جس کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے،اس لیے جواب درست نہیں ہوسکتا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں