سعودی عرب: دس سال کے دوران 3500 انتہا پسند آئمہ ملازمت سے سبکدوش

پرتشدد خیالات کے علاوہ دیگر وجوہات بھی آئمہ کی برطرفی کا باعث بنیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سنہ 2001ء سے 2011ء کے دس سالہ عرصے میں "شدت پسند خیالات" کے حامل کم سے کم 3500 آئمہ مساجد اور خطباء حضرات کو ان کی نوکریوں سے فارغ کیا ہے۔

دوسری جانب ریاض میں وزارت مساجد و دعوت وارشاد کے سیکرٹری ڈاکٹر توفیق السدیری کا کہنا ہے کہ علماء کی برطرفیوں کا واحد سبب ان کے انتہا پسند خیالات ہی نہیں بلکہ انہیں ہٹانے کی کئی دوسری وجوہات بھی شامل ہیں۔ "کئی آئمہ کو ان کے پیشہ ورانہ امورمیں عدم دلچسپی، لاپرواہی، ڈیوٹی سے غیر حاضری اورحکومت کے وضع کردہ اصول وضوابط کی بار بار خلاف ورزی کی بناء پر سبکدوش کیا گیا۔"

ڈاکٹر السیدیری کا کہنا تھا کہ حکومت نے مساجد کےآئمہ اورخطباء کی اہلیت کا ایک معیارمقررکیا ہے۔ معیار پرپُورا اترنے کے لیے آئمہ کی مکمل تربیت کی جاتی ہے۔ قرآن کریم کی قرات اور حفظ میں کمزور افراد کوامام نہیں بنایا جاتا اور جو شخص خود کو اس کا اہل ثابت نہ کرے اسے بھی اس عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے، لیکن ایسا اس وقت ہوتا ہے جب اصلاح کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجائیں اور بہتری کی کوئی امید باقی نہ رہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی اخبار"الحیات" نے امریکی حکومت کی ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دس سال میں ریاض حکومت نے انتہا پسند سوچ کے حامل ساڑھے تین ہزار علماء کو مساجد کی امامت اور خطابت سے فارغ کیا ہے۔ آئمہ کی برطرفیوں کا سلسلہ سنہ 2001ء سے 2011ء کے عرصے پر مشتمل ہے جبکہ 2012ء میں کسی امام کو نہیں ہٹایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ریاض حکومت مساجد کے آئمہ کی سرگرمیوں پرکڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔علماء کی ویب سائٹس اور ان کے بلاگز پر بھی گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ کئی آئمہ اور علماء کی ویب سائٹس کوانتہا پسند خیالات کے اظہار کے باعث بند کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں