امریکا نے مصر کو ایف 16 جنگی طیاروں کی ڈلیوری روک دی

منتخب صدر مرسی کی برطرفی سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے مصر کو منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر ایف سولہ جنگی طیارے مہیا کرنے کا عمل روک دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''مصر کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ اس وقت ایف سولہ طیارے بھیجے جائیں''۔

مسٹر جارج لٹل کے بہ قول وزیردفاع چک ہیگل نے مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو فون کرکے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

پینٹاگان نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس نے مصر کو جنگی طیارے نہ دینے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔البتہ صرف یہ کہا ہے کہ امریکی حکومت مصر میں جمہوری حکمرانی کی جانب تیز رفتاری سے پیش رفت کی خواہاں ہے

ترجمان جارج لٹل نے کہا کہ امریکی فیصلہ اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ مرسی کو فوجی انقلاب کے نتیجے میں نکال باہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر نے امریکا کے ساتھ 2010ء میں بیس ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لیے ڈھائی ارب ڈالرز مالیت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ان میں سے چار جنگی طیارے اسی ہفتے مصر بھیجے گئے تھے اور چار آیندہ ہفتوں کے دوران مصر کے حوالے کیے جانے تھے۔

امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے مصر میں حالیہ فوجی انقلاب کے بعد اس کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور امریکا میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے اقدام کو فوجی بغاوت قرار دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون کے تحت اوباما انتظامیہ مصری فوج کی امداد بند کرنے کی پابند ہوگی۔

واضح رہے کہ مصر اسرائیل کے بعد امریکا سے سب سے زیادہ امداد وصول پانے والا دوسرا ملک ہے۔اسے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد دی جاتی ہے اور ایف سولہ جنگی طیارے بھی اسی امدادی پیکج کا حصہ ہیں۔

امریکا مذکورہ بالا امدادی پیکج کے تحت ستمبر میں ختم ہونے والے مالی سال 2013ء کے لیے مصر کو پہلے ہی پینسٹھ کروڑ ڈالرز مالیت کی فوجی امداد کی شکل میں دے چکا ہے۔اس کے تحت آٹھ ایف سولہ طیاروں کی دوسری کھیپ دسمبر میں مصر کے حوالے کی جائے گی۔

دوسری جانب برطرف صدر محمد مرسی کے اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں حامی امریکا پر یہ الزام عاید کر رہے ہیں کہ اس نے منتخب صدر کے خلاف فوجی بغاوت برپا ہونے کی اجازت دی ہے۔

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ لاکھوں مصری حکومت میں تبدیلی چاہتے تھے۔البتہ امریکا مرسی کی رخصتی کو کوئی نام دینے کا فیصلہ کرنے کے لیے انتظار کرے گا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حکام موجودہ صورت حال سے کیسے نمٹتے ہیں اور اس کے بارے میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں