"عالمی برادری فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے"

مقبوضہ علاقوں میں ای یو کے فنڈز استعمال کرنے پر پابندی قابل تحسین ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے بین اقومی برادری سے اسرائیل کے خلاف دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اسرائیل کا غیر انسانی اور پرتشدد سلوک ختم کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے وفد کے ترجمان عبد المحسن الیاس نے عالمی دارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ہے۔ عالمی ادارے میں سعودی مندوب کا کہنا تھا کہ محض امیدوں کے سہارے بہتری نہیں آ سکتی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرنے کا واحد اور حقیقی راستہ فلسطینیوں کے ساتھ پرامن مذاکرات ہی ہے۔

سعودی وفد کے ترجمان عبد المحسن الیاس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ''اب عالمی برادری کی مدد سے اسرائیل پر دبائو بڑھانا پڑے گا تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ اس مسئلے کے پرامن حل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور یہ کہ یہ معاملہ سکیورٹی کونسل میں آئے روز کی بحثوں سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

عبدالمحسن نے فلسطینی علاقوں میں پرتشدد واقعات، قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور فلسطینیوں کو بے گھرکر کے حراست میں لینے جیسے غیر انسانی ہتھکنڈوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے زمینی حالات بدلنے کی خواہش زور پکڑ رہی ہے جو فلسطینیوں کے گھروں کی تباہی اور بحق صہیونی سرکار ضبطی تک محدود نہیں بلکہ یہودی بستیوں کو توسیع دینے اور مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال، غیر قانونی گرفتاریوں اور غزہ کی پٹی میں ناکہ بندیوں کو جاری رکھنے تک جا پہنچی ہے۔

سعودی وفد نے مقبوضہ علاقوں میں قائم یہودی بستیوں میں سرگرم غیر سرکاری انجمنوں پر یورپی یونین کے فراہم کردہ فنڈ استعمال کرنے پر پابندی کو سراہتے ہوئے عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ بھی یورپی یونین کے فیصلے کی پیروی کریں۔

عالمی ادارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عبد المحسن الیاس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ عمل کی مذمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کے لئے مزید 1000 گھر بنانے کا اعلان صہیونی ریاست کے غرور، تکبر اور سرکشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

درایں اثنا سعودی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بشارالاسد کے ہاتھوں شام میں جاری قتل عام کو رکوانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریے انہوں نے القصیر میں حزب اللہ کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں عالمی مداخلت سے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو اس آگ کی لپیٹ میں دوسرے ممالک بھی آ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں